30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ منان بنا ہے من سے من کے چند معنی ہیں: کسی پر منت رکھنا یعنی کچھ دے کر اسے طعنے دینا،ایذا رسانی کرنا،رب تعالٰی فرماتا ہے:"لَا تُبْطِلُوۡا صَدَقٰتِکُمۡ بِالْمَنِّ وَالۡاَذٰی"کانٹا ختم کرنا،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِنَّ لَکَ لَاَجْرًا غَیۡرَ مَمْنُوۡنٍ" خواہ قطع رحمی ہو یا قطع طریق یعنی ڈکیتی یہاں سارے معنی بن سکتے ہیں۔(لمعات،مرقات)عاق ماں باپ کا نافرمان،مدمن خمر وہ جو شراب خوری کا عادی ہو اس سے توبہ نہ کرے یعنی یہ لوگ اولًا جنت میں جانے کے مستحق نہ ہوں گے۔خیال رہے کہ گناہ صغیرہ ہمیشہ کرنے سے کبیرہ بن جاتا ہے شراب خواری خود ہی سخت جرم ہے پھر اس پر ہمیشگی ڈبل جرم۔
|
4934 -[24] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَلَّمُوا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُونَ بِهِ أَرْحَامَكُمْ فَإِنَّ صِلَةَ الرَّحِمِ مَحَبَّةٌ فِي الْأَهْلِ مَثْرَاةٌ فِي الْمَالِ مَنْسَأَةٌ فِي الْأَثَرِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب |
روایت ہے ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم اپنے نسب یاد رکھو جس سے اپنے رشتے جوڑو ۱؎ کیونکہ رشتے جوڑنا گھر والوں میں محبت ہے،مال میں برکت ہے ۲؎ عمر میں درازی ہے ۳؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ یعنی اپنے ددھیال ننھیال کے رشتہ یاد رکھو اور یہ بھی دھیان میں رکھو کہ کسی سے ہمارا کیا رشتہ ہے تاکہ بقدر رشتہ ان کے حق ادا کرتے رہو،اگر تم کو رشتہ داروں کی خبر ہی نہ ہوگی تو ان سے سلوک کیسے کرو گے۔
۲؎ مثراۃ بناہے ثریٰ سے بمعنی کثرت اسی سے ہے ثروت،مثرات کے معنی ہیں زیادتی مال اور برکت کا ذریعہ ہے۔
۳؎ منساۃ بنا ہے نساء سے بمعنی تاخیر یا دیر اس لیے ادھار کو نسیہ کہتے ہیں کہ اس کی وصولی میں دیر ہوتی ہے۔اجل بمعنی موت یعنی اس کی برکت سے موت دیر سے آتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ عمر بڑھتی ہے اس کا بہت لوگوں سے تجربہ کیا ہے بالکل درست پایا۔
|
4935 -[25] وَعَن ابْن عمر أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ ذَنْبًا عَظِيمًا فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ: «هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ؟» قَالَ: لَا. قَالَ: «وَهَلْ لَكَ مِنْ خَالَةٍ؟» . قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «فبرها» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ ایک شخص نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو عرض کیا یارسول الله میں نے بہت بڑا گناہ کرلیا ہے تو کیا میری توبہ ہوسکتی ہے ۱؎ فرمایا کیا تیری ماں ہے عرض کیا نہیں فرمایا کیا تیری کوئی خالہ ہے عرض کیا کہ ہاں فرمایا اس سے اچھا سلوک کرو ۲؎(ترمذی) |
۱؎ یعنی میں نے قولی یا عملی بدترین گناہ کرلیا ہے ایسے بدترین گناہ کی بھی توبہ ہوسکتی ہے یا نہیں۔خیال رہے کہ یہاں سوال گناہ کے متعلق ہے کسی بندے کے حق کے متعلق نہیں کہ حق العبد بغیر ادا کیے یا بغیر اس صاحب حق کے معاف کیے معاف نہیں ہوتا۔
۲؎ یہ ہے حضور کی شان پردہ پوشی کہ اس سے پوچھانہیں کہ تو نے گناہ کیا کیا ہے تاکہ وہ لوگوں کے سامنے بیان کرکے رسوا نہ ہو۔حضور کو معلوم تھا کہ اس نے گناہ کیا ہے جو صلہ رحمی کی وجہ سے معاف ہوسکتا ہے کسی کا حق نہیں مارا ہے جس کی معافی صلہ رحمی وغیرہ نیک عمل سے نہ ہوسکے۔اس فرمان عالی سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ صلہ رحمی سے گناہ معاف ہوتے ہیں کہ صلہ رحمی بھی نیکی ہے اور نیکیوں سے گناہوں کی معافی ہوتی ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع