30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ یعنی جو رشتہ داروں کے حقوق ادا کرے گا میں اسے اپنے سے ملالوں گا اور اپنی رحمت تک پہنچادوں گا اور جو ان کے حقوق ادانہ کرے گا یا ان پر ظلم کرے گا میں اسے اپنی رحمت سے دور کروں گا جو مجھ سے ملنا چاہے وہ اپنے عزیزوں کے حق ادا کرے گا یا ان پر ظلم کرے گا میں اسے اپنی رحمت سے دور کروں گا جو مجھ سے ملنا چاہے وہ اپنے عزیزوں کے حق ادا کرے۔
|
4931 -[21] وَعَنْ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَنْزِلُ الرَّحْمَةُ عَلَى قَوْمٍ فِيهِمْ قَاطِعُ الرَّحِمِ» رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَان» |
روایت ہے حضرت عبدالله ابن ابی اوفی سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اس قوم پر رحمت نہیں اترتی جن میں قرابت توڑنے والا ہو ۱؎(بیہقی شعب الایمان) |
۱؎ یعنی جس قوم میں ایک شخص اپنے عزیزوں کی حق تلفی کرتا ہو اور دوسرے لوگ اس کے اسی گناہ پر مدد کرتے ہوں یا باوجود قدرت کے اسے اس ظلم سے نہ روکتے ہوں تو وہ سب لوگ رحمت سے محروم ہیں گناہ کرنا بھی گناہ ہے باوجود قدرت کے گناہ سے نہ روکنا بھی گناہ ہے یا یہ مطلب ہے کہ اس ایک کی شامت سے یہ سب لوگ رب کی رحمت سے محروم ہوجاتے ہیں لہذا مطلب واضح ہے۔
|
4932 -[22] وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ ذَنْبٍ أَحْرَى أَنْ يُعَجِّلَ اللَّهُ لصَاحبه الْعقُوبَة فِي الدُّنْيَا مَعَ مايدخر لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْبَغْيِ وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابوبکر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کوئی گناہ اس لائق نہیں کہ اس کے مرتکب پر سزا الله دنیا میں بھی بھیجے مع آخرت میں ذخیرہ کرنے کے بمقابلہ بغاوت اور رشتہ توڑنے کے ۱؎ (ترمذی، ابوداؤد) |
۱؎ یعنی تمام گناہوں کی سزا آخرت میں ملے گی کیونکہ دنیا دارالعمل ہے آخرت دارالجزاء مگر دو گناہ ایسے ہیں جن کی سزا دنیا میں بھی مل جاتی ہے اور آخرت میں بھی ملے گی: ایک بغی،دوسرا رشتہ داروں کا حق ادا نہ کرنا ان کی حق تلفی۔بغی کے معنی ظلم بھی ہیں،بادشاہ اسلام پر بغاوت کرنا بھی،تکبروغرور کرنا بھی یہاں تینوں معنی کا احتمال ہے۔(مرقات)دیکھا گیا ہے کہ ماں باپ کو ستانے والا دنیا میں بھی چین سے نہیں رہتا در بدر پھٹکارا پھرتا ہے،ماں باپ کا خدمتگار دنیا میں عیش،چین،عزت پاتا ہے یہ میرا خود اپنا تجربہ ہے۔طبرانی کی روایت میں ہے کہ عزیزوں کی حق تلفی خیانت اور جھوٹ اس لائق ہیں کہ ان کی سزا دونوں جہان میں ملے،رشتے داروں کی خدمت میں وہ نیکی ہے جس کی جزا دونوں جہان میں ملتی ہے حتی کہ بعض لوگ فاسق فاجر ہوتے ہیں مگر رشتہ داروں سے سلوک کی وجہ سے ان کی مال و اولاد میں برکت ہوتی ہے۔(مرقات)یہ بھی تجربہ ہے بعض فساق ماں باپ کی خدمت کی برکت سے بہت پھلتے پھولتے ہیں۔
|
4933 -[23] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنَّانٌ وَلَا عَاقٌّ وَلَا مُدْمِنُ خمر» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ والدارمي |
روایت ہے حضرت عبدالله بن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جنت میں نہ جائے گا احسان جتانے والا اور نہ نافرمان اور ہمیشہ کا شراب خوار ۱؎ (نسائی، دارمی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع