دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

4928 -[18]

وَعَن أبي الدَّرْدَاء أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ فَقَالَ: إِنَّ لِي امْرَأَةً وَإِن لي أُمِّي تَأْمُرُنِي بِطَلَاقِهَا؟ فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَإِنْ شِئْتَ فَحَافِظْ عَلَى الْبَابِ أَوْ ضَيِّعْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه

روایت ہے حضرت ابی الدرداء سے کہ ایک شخص انکے پاس آیا بولا میری بیوی ہے اور میری ماں اسے طلاق  دے دینے کا مجھے حکم دیتی ہے ۱؎  تو ان سے ابوالدرداء نے فرمایا کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ والدین جنت کے دروازوں میں بیچ کا درازہ ہیں تو اگر تم چاہو تو دروازہ سنبھال لو یا اسے ڈھا دو ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ)

۱؎ یعنی فرمایئے میں کیا کروں اسے طلاق دوں یا نہ  دوں کہ طلاق تمام مباح چیزوں میں بہت ہی ناپسندیدہ چیز ہے۔

۲؎  مقصد یہ ہے کہ یا تو اپنی بیوی سے اپنی ماں کو راضی کردو ساس بہو کی صلح کرا دو یا طلاق دے دو صراحۃً طلاق کا حکم نہ دیا کہ ایسی صورت میں طلاق دینا واجب نہیں بہتر ہے اور اگر ماں باپ بیوی پر ظلم کرنے کا حکم دیں کہ اسے خرچہ نہ دے اسے میکے میں چھوڑ دے تو ہرگز نہ کرے کہ ظلم حرام ہے ماں باپ کی اطاعت حکم شرع کے خلاف میں نہیں۔

4929 -[19]

وَعَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جدَّه قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ: «أُمَّكَ» قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «أُمَّكَ» قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «أُمَّكَ» قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «أَبَاكَ ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے بہز ابن حکیم سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی ۱؎  فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله میں کس سے سلوک کروں فرمایا اپنی ماں سے میں نے عرض کیا پھر کس سے فرمایا پھر اپنی ماں سے میں نے عرض کیا پھر کس سے فرمایا اپنی ماں سے میں نے عرض کیا پھر کس سے فرمایا اپنے باپ سے ۲؎ پھر درجہ بدرجہ قرابت داروں سے ۳؎ (ترمذی، ابوداؤد)

۱؎ آپ کے حالات پہلے بیان ہوچکے کہ آپ بہز ابن حکیم ابن معاویہ ابن حیدہ قشیری ہیں،بصری ہیں،یہاں جدہ میں ہ ضمیر بہز کی طرف لوٹتی ہے لہذا معاویہ ابن حیدہ سے یہ روایت ہے۔

۲؎ اس کی شرح پہلے ہوچکی کہ حق الخدمت ماں کا تین گنا ہے باپ کا ایک گنا کہ ماں نے بچہ کو اولًا پیٹ میں رکھا،پھر جنا،پھر دودھ پلایا،اس کے بعد کی پروش میں ماں باپ دونوں شریک رہے۔خیال رہے کہ حق خدمت ماں کا زیادہ ہے۔

۳؎  ظاہر یہ ہے کہ قرابت داروں سے مراد نسبی قرابت دار ہیں ان میں جتنا قرب زیادہ اتنا حق زیادہ۔چنانچہ پہلے بھائی بہن پھر ماموں چچا وغیرہ اور ہوسکتا ہے کہ قرابت دار عام مراد ہوں جن میں ساس،سالا رضاعی ماں وغیرہ سب شامل ہوں۔

4930 -[20]

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: " قَالَ الله تبَارك: أَنَا اللَّهُ وَأَنَا الرَّحْمَنُ خَلَقْتُ الرَّحِمَ وَشَقَقْتُ لَهَا مِنِ اسْمِي فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ وَمَنْ قطعهَا بتته ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت عبدالرحمن بن عوف سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ الله تبارک و تعالٰی فرماتا ہے کہ میں الله ہوں ۱؎ اور میں رحمان ہوں میں نے رحم کو پیدا فرمایا ۲؎ اور اس کے لیے اپنے نام سے نام مشتق کیا ۳؎ تو جو اسے جوڑے گا میں اسے جوڑوں گا اور جو اسے توڑے گا میں اسے توڑوں گا ۴؎(ابوداؤد)

۱؎ یعنی معبودحقیقی ہوں،سب سے غنی ہوں،سب کا داتا ہوں۔

۲؎  رحم سے مراد یا تو رحمی رشتے اور قرابت داریاں ہیں یا خاص رحم ہے یعنی بچہ دانی جو عورت کے پیٹ میں ہے کہ یہ تمام نسبی رشتوں کا ذریعہ ہے۔

۳؎  یعنی اپنے نام سے اس کا نام بنایا یہاں اشتقاق صرفی مراد نہیں کہ اس قاعدہ سے تو لفظ رحمن بنا ہے رحم سے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن