دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

4926 -[16]

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ فِيهَا قِرَاءَةً فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ كَذَلِكُمُ الْبِرُّ كَذَلِكُمُ الْبِرُّ «. وَكَانَ أَبَرَّ النَّاسِ بِأُمِّهِ. رَوَاهُ فِي» شَرْحِ السُّنَّةِ «. وَالْبَيْهَقِيُّ فِي» شعب الْإِيمَان " وَفِي رِوَايَة: قَالَ: «نِمْتُ فرأيتني فِي الْجنَّة» بدل «دخلت الْجنَّة»

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ میں جنت میں گیا تو میں نے اس میں تلاوت سنی ۱؎  میں نے کہا یہ کون ہے بولے یہ حارثہ ابن نعمان ہیں ۲؎ بھلائی ایسی ہوتی ہے بھلائی ایسی ہوتی ہے۳؎  اور وہ اپنی ماں کے ساتھ سب سے زیادہ نیکوکار تھے ۴؎ شرح سنہ بیہقی شعب الایمان اور ان کی روایت میں ہے فرمایا میں سویا تو میں نے اپنے کو جنت میں دیکھا۵؎ بجائے دخلت الجنۃ کے۔

۱؎ یعنی ایک بار خواب میں ہم نے جنت دیکھی تو کسی کو خوش الحانی سے قرآن مجید تلاوت کرتے پایا قراءۃ کی تنوین مضاف الیہ کے عوض ہے یعنی قراءۃ القرآن۔

۲؎  آپ بڑے جلیل القدر صحابی ہیں،غزوہ بدر و احد میں شریک ہوئے،ایک بار حضور اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے حضور کے پاس کوئی شخص بیٹھا تھا آپ نے سلام کیا اس شخص نے بھی جواب دیا،جب دوبارہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو حضور نے فرمایا وہ صاحب جنہوں نے تم کو سلام کا جواب دیا حضرت جبریل تھے۔غالبًا حارثہ اس وقت وفات پاچکے تھے ہوسکتا ہے کہ اس وقت زندہ ہوں،پہلا احتمال قوی ہے۔

۳؎  یہ جملہ یا تو حضور انور کا فرمان ہے جو صحابہ سے فرمایا یا فرشتوں کی عرض و معروض ہے جو انہوں نے حضور سے کی تو ذلکم کی جمع تعظیم کے لیے ہے۔

۴؎  یہ قول راوی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اپنی والدہ کی بہت ہی خدمت کرتے تھے اس کی وجہ سے انہیں یہ عظمت ملی۔

۵؎  اس عبارت سے صاف معلوم ہوا کہ یہ واقعہ خواب کی معراج کا ہے نہ کہ بیداری کی معراج کا جیساکہ ابھی عرض کیا گیا۔

4927 -[17]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَضِيَ الربِّ فِي رضى الْوَالِدِ وَسُخْطُ الرَّبِّ فِي سُخْطِ الْوَالِدِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے عبدالله ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ رب کی رضا باپ کی رضا مندی میں ہے اور رب کی ناراضی باپ کی ناراضی میں ہے ۱؎ (ترمذی)

۱؎ غالبًا اس وقت باپ کی خدمت ہی کا ذکر ہوگا اس لیے صرف باپ کا ذکر فرمایا ورنہ ماں کا بھی یہ ہی حکم ہے بلکہ بطریق اولیٰ اس کی مستحق ہے،ممکن ہے کہ والد سے مراد جنس ہو یعنی ولادت والا خواہ مرد ہو یا عورت یعنی ماں ہو یا باپ۔طبرانی نے حضرت ابن عمر سے مرفوعًا روایت کیا فی رضا الوالدین اور فی سخطمہا۔وہ حدیث اس کی شرح ہے کہ والد سے مراد والدین ہیں۔اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ حضور کا یہ فرمان خود عبدالله ابن عمروسے تھا کہ وہ خود عابد زاہد تہجدگزار شب بیدار تھے مگر ان کے والد عمرو ابن عاص نے حضور سے شکایت کی کہ میں اپنے بیٹے سے ناراض ہوں تب آپ نے یہ ان سے فرمایا۔

4928 -[18]

وَعَن أبي الدَّرْدَاء أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ فَقَالَ: إِنَّ لِي امْرَأَةً وَإِن لي أُمِّي تَأْمُرُنِي بِطَلَاقِهَا؟ فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَإِنْ شِئْتَ فَحَافِظْ عَلَى الْبَابِ أَوْ ضَيِّعْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه

روایت ہے حضرت ابی الدرداء سے کہ ایک شخص انکے پاس آیا بولا میری بیوی ہے اور میری ماں اسے طلاق  دے دینے کا مجھے حکم دیتی ہے ۱؎  تو ان سے ابوالدرداء نے فرمایا کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ والدین جنت کے دروازوں میں بیچ کا درازہ ہیں تو اگر تم چاہو تو دروازہ سنبھال لو یا اسے ڈھا دو ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن