30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بَعْضُہُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ"۔یہ گفتگو ذی رحم کے متعلق ہے ان کے علاوہ دوسرے قرابت دار جیسے ساس،سالا،رضاعی ماں رضاعی بھائی یعنی ان کے ساتھ بھی سلوک کرے،رب تعالی فرماتا ہے :"اٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ"حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حلیمہ اور جناب ثویبہ کے عزیزوں سے سلوک کئے۔
۲؎ قاطع سے مراد یا تو ڈاکو ہے یعنی قاطع طریق(راہ مار)یا قاطع رحم یعنی رحم یعنی حقوق ادا نہ کرنے والا دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں اس لیے یہ حدیث اس باب میں لائی گئی یعنی یہ لوگ اولًا جنت میں نہ جائیں گے پہلے سزا پائیں گے پھر جائیں۔
|
4923 -[13] وَعَنِ ابْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «لَيْسَ الواصِلُ بالمكافىء وَلَكِنَّ الْوَاصِلَ الَّذِي إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ رشتہ جوڑنے والا وہ نہیں جو یہ بدلہ چکائے لیکن جوڑنے والا وہ ہے کہ جب اس سے رشتہ توڑا جائے تو وہ اسے جوڑ دے ۱؎ (بخاری) |
۱؎ یعنی جو شخص اپنے عزیزوں سے سلوک کرے مگر بدلہ میں کہ وہ کچھ کریں تو اس کی عوض یہ بھی کرے وہ ناقص ہے،کامل رشتے جوڑنے والا وہ ہے جو اپنے عزیزوں کی برائی کا بدلہ بھلائی سے کرے کہ وہ اس پر زیادتی کریں تو یہ سلوک کرے،اس کی تفسیر حضور صلی الله علیہ وسلم کا عمل شریف ہے۔یوسف علیہ السلام نے بھائیوں کے ظلم سہہ کر ان کی پرورش فرمائی،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِدْفَعْ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحْسَنُ"۔غرضیکہ یہ حدیث کمال اخلاق کی تعلیم دے رہی ہے۔
|
4924 -[14] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لي قَرَابةَ أصلهم ويقطعوني وَأحسن إِلَيْهِم ويسيؤون إِلَيّ وأحلم عَلَيْهِم وَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ. فَقَالَ: «لَئِنْ كُنْتَ كَمَا قُلْتَ فَكَأَنَّمَا تُسِفُّهُمُ الْمَلَّ وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللَّهِ ظَهِيرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ عَلَى ذَلِكَ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے ابوہریرہ سے ایک شخص نے عرض کیا یا رسول الله میرے قرابت دار ہیں ۱؎ میں ان سے جوڑتا ہوں اوروہ مجھ سے توڑتے ہیں،ان سے بھلائی کرتا ہوں وہ مجھ سے برائی کرتے ہیں،میں ان سے بردباری سے برتتا ہوں ۲؎ وہ مجھ پر جہالت کرتے ہیں تو فرمایا کہ اگر ویسا ہی ہے جیسے کہہ رہا ہے تو تو ان کے منہ میں بھوبل ڈال رہا ہے۳؎ اور تیرے ساتھ الله کی طرف سے ان پر مددگار رہے گا جب تک تو اس حال پر رہے ۴؎(مسلم) |
۱؎ یہاں قرابت سے مراد ذی قرابت یعنی رشتہ دار ہیں یہ صاحب ان کی شکایت بارگاہِ رسالت میں کررہے ہیں۔
۲؎ غرضکہ ہر طرح ان کی برائیوں کا بدلہ بھلائی سے دیتاہوں۔یہ دوسروں کی غیبت یا اپنی شیخی مارنا نہیں بلکہ مسئلہ دریافت کرنا ہے۔
۳؎ سف کے معنی ہیں ان کے منہ میں بھرتا ہے،مل میم کے فتح لام کے شد سے بمعنی گرم راکھ جسے اردو میں بھوبل کہتے ہیں اس جملہ کے بہت معنی ہیں: ایک یہ کہ اس حالت میں ان لوگوں کو تیرا مال حرام ہے اور پھر وہ کھارہے ہیں تو گویا اپنے منہ میں بھوبل بھررہے ہیں،دوسرے یہ کہ ان کو ان حالات میں ایسی شرمندگی چاہیے کہ ان کے منہ جھلس جاویں جیسے بھوبل پڑ جانے سے منہ جھلس جاتا ہے،تیسرے یہ کہ ان کی برائیوں کی عوض تیرا ان سے سلوک کرنا گویا ان کے منہ بھوبل سے بھرنا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع