دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

4918 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ وَيُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَره فَليصل رَحمَه».

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو چاہے کہ اس کے رزق میں وسعت دی جاوے اور اس کی موت میں دیر کی جاوے ۱؎  تو وہ صلہ رحمی کرے۔(مسلم،بخاری)

۱؎ نساء کہتے ہیں دیر لگانے کو اس لیے ادھار کو نسیہ کہا جاتا ہے کہ وہاں مال دیر سے ملتا ہے۔اثر کہتے ہیں نشان قدم کو،مرنے سے نشان قدم جاتے رہتے ہیں کہ پھر انسان چلتا پھرتا نہیں،پھر زندگی کو اثر کہنے لگے کہ زندگی میں نشان قدم زمین میں پڑتے ہیں۔موت میں دیر لگانے سے مراد ہے عمر دراز دینا یعنی جو رزق میں برکت عمر میں درازی چاہے وہ رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرے۔خیال رہے کہ تقدیر تین قسم کی ہے: مبرم،معلق،مشابہ مبرم،تقدیر مبرم میں کمی و بیشی ناممکن ہے مگر باقی دو تقدیروں میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔دعا نیک اعمال سے عمر بڑھ جانے اور بد دعا بدعمل سے عمر گھٹ جانے کا یہ ہی مقصد ہے کہ آخری دو قسم کی عمریں گھٹ بڑھ جاتی ہیں۔ہم یہ مسئلہ باب القدر میں بیان کرچکے ہیں اور تفسیرنعیمی کے پہلے پارہ میں بھی عرض کرچکے ہیں۔دیکھو حضرت آدم علیہ السلام کی دعا سے حضرت داؤد علیہ السلام کی عمر بجائے ساٹھ سال کے سو۱۰۰ برس ہوگئی،حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا سے وفات یافتہ لوگ جی جاتے تھے اور زندہ رہتے تھے۔

4919 -[9] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُلِقَ اللَّهُ الْخَلْقَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْهُ قَامَتِ الرَّحِمُ فَأَخَذَتْ بِحَقْوَيِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ: مَهْ؟ قَالَتْ: هَذَا مقَام العائذ بك من القطيعةِ. قَالَ: أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ؟ قَالَتْ: بَلَى يَا رَبِّ قَالَ: فَذَاك ".

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ الله نے مخلوق پیدا فرمائی ۱؎  جب اس سے فارغ ہوا تو رحم اٹھ کھڑا ہوا پھر اس نے رحمان کا دامن کرم پکڑلیا ۲؎  رب نے فرمایا کیا ہے۳؎ عرض کیا یہ جگہ ہے اس کی جو توڑے جانے سے تیری پناہ لے۴؎ فرمایا کیا تو اس سے راضی نہیں کہ جو تجھے جوڑے میں اسے جوڑوں اور جو تجھے توڑے اسے توڑ دوں۵؎  بولا ہاں اے رب فرمایا تو ایسا ہی ہے۔(مسلم،بخاری)

۱؎  یہاں خلق سے مراد یا تو پیدائش کا فیصلہ فرمانا ہے یا اندازہ لگانا لہذا حدیث واضح ہے۔

۲؎  حقو کہتے ہیں کمر کو جہاں کمر بندیا تہبند باندھا جاتا ہے۔عرب والے جب کسی کی پناہ لیتے یا اس سے کچھ ضروری عرض معروض کرنا چاہتے تھے تو اس کی کمر سے لپٹ جاتے تھے یہاں وہ ہی استعارہ استعمال فرمایا گیا ہے۔رحم سے مراد رحمی رشتہ داری ہے اس عالم میں ہر چیز کی شکل ہے لہذا یہ رشتہ داری ایک خاص شکل میں تھی اور اس نے صاف صاف یہ عرض کیا قیامت میں ہمارے اعمال،قرآن،رمضان کی خاص شکلیں ہوں گی وہ کلام کریں گے لہذا حدیث واضح ہے،بعض شارحین نے کہا کہ یہ حدیث متشابہات سے ہے کہ اسے بغیر سمجھے ہی مان لو۔

۳؎  مہ مخفف ہے ماھذا کا یا اسم فعل ہے یا اصل میں لفظ ما تھا ہ وقف کی ہے مطلب یہ ہی ہے کہ تو کیا کہتا ہے۔

۴؎  رحم توڑے جانے سے مراد ہے حقوق قرابت ادا نہ کرنا یعنی اس بات سے تیری پناہ لیتا ہوں کہ کوئی میرے حق ادا نہ کرے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن