دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

4912 -[2]

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَغِمَ أَنْفُهُ رَغِمَ أَنْفُهُ رَغِمَ أَنْفُهُ» . قِيلَ: مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا ثمَّ لم يدْخل الْجنَّة» . وَرَاه مُسلم

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اس کی ناک رگڑ جاوے ۱؎  اس کی ناک رگڑ جاوے عرض کیا گیا یارسول الله کس کی فرمایا اس کی جو اپنے ماں باپ کو پائے ۲؎ کہ ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے میں ہوں پھر جنت میں نہ چلا جاوے۳؎(مسلم)

۱؎ یعنی وہ ذلیل ہوجاوے وہ ذلیل ہوجاوے وہ ذلیل ہوجاوے۔ناک رگڑنے سے مراد ذلت و خواری ہے ناک رگڑنے سے مراد ذلت و خواری ہوتی ہے۔

۲؎  احدھما اور کلاھما یہ دونوں عندالکبر کا فاعل ہیں لہذا مرفوع ہیں یعنی انہیں اس حال میں پائے کہ وہ دونوں یا ایک۔ بڑھاپے کی قید اس لیے لگائی کہ اس وقت ہی خدمت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور بارگاہِ الٰہی میں بوڑھے کی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے،وہ کریم سفید داڑھی بالوں والے بندے کے پھیلے ہوئے ہاتھ خالی نہیں پھیرتا،اولاد کو چاہیے کہ ایسے وقت اور ایسے وقت کی خدمت کو غنیمت جانیں۔

۳؎ یا اس طرح کہ ان کی نافرمانی کرے یا اس طرح کہ انکی خدمت میں کمی کرے یا اس طرح کہ انہیں سخت جواب دے۔ خیال رہے کہ بڑھاپے میں طبیعت چڑچڑی ہوجاتی ہے،غصہ بڑھ جاتا ہے اس وقت ان کی سخت بات برداشت کرے ان کی سختی کی پرواہ نہ کرے،سمجھے انکی مت کٹ گئی ہے ان شاءالله دونوں جہان میں آرام پائے گا،قرآن کریم فرماتاہے:"اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنۡدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُہُمَاۤ اَوْکِلَاہُمَا فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّلَا تَنْہَرْہُمَا وَقُلۡ لَّہُمَا قَوْلًاکَرِیۡمًا"بڑھاپے کا ذکر اس لیے بارہا ہوتا ہے کہ وہ وقت تو سنبھالنے کا ہے جس نے وہ وقت سنبھال لیا اس نے کمائی کرلی،ایسے آڑے وقت میں ان پر دل کھول کر خرچ بھی کرے،ان کی خدمت بھی کرے،انکے لیے دعا بھی کرے۔بچپن میں یہ مجبور تھا تو ماں باپ نے اسے سنبھالا اور وہ مجبور ہیں تو یہ انہیں سنبھالے الله کی رحمت اسے سنبھالے گی۔(مرقات)

4913 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنهُ قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُهَا؟ قَالَ: «نعم صِليها» .

روایت ہے حضرت اسماء بنت ابی بکر سے فرماتی ہیں کہ میری ماں آئیں جب کہ وہ قریش میں مشرکہ تھیں ۱؎  میں نے عرض کیا یارسول الله میری ماں میرے پاس آئی ہیں وہ دین سے دور ہیں۲؎ کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں فرمایا ہاں کرو۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎ صلح حدیبیہ کے بعد کفار مدینہ منورہ آنے جانے لگے تھے اس دوران میں حضرت ابوبکر صدیق کی پہلی بیوی حضرت اسماء کی والدہ آئیں۔

۲؎  مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں راغمۃ ہے میم سے مگر اکثر نسخوں میں راغبۃ ب سے ہے،راغمۃ میم سے بمعنی عاجز،ذلیل،خوار،مسکین و غریب یعنی وہ میرے پاس عاجز و محتاج ہوکر آئی ہے میرے مال کی حاجت مند ہے۔راغبۃ ب سے ہو تو اس میں دو احتمال ہیں: ایک یہ کہ بمعنی رغبت خواہش ہو یعنی وہ میرے مال میری خدمت کی خواہش مند ہے،دوسرے یہ کہ بمعنی بے رغبتی و روگردانی ہو یعنی وہ اسلام سے بے رغبت ہے اسے اسلام کی طرف رغبت و میلان نہیں،اگر رغبت کے بعد فی ہو تو بمعنی میلان ہوتی ہے اگر عن ہو تو بمعنی بے رغبتی۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن