30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4910 -[18] وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْسَابُكُمْ هَذِهِ لَيْسَتْ بِمَسَبَّةٍ عَلَى أَحَدٍ كُلُّكُمْ بَنُو آدَمَ طَفُّ الصَّاعِ بِالصَّاعِ لَمْ تملؤوه لَيْسَ لِأَحَدٍ عَلَى أَحَدٍ فَضْلٌ إِلَّا بِدِينٍ وَتَقْوًى كَفَى بِالرَّجُلِ أَنْ يَكُونَ بَذِيًّا فَاحِشًا بَخِيلًا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» |
روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تمہارے یہ نسب کسی پر گالی کا سبب نہیں ہیں ۱؎ تم سب آدم کی اولاد ہو جیسے صاع کی چیز صاع سے ہے جسے اس نے بھرا نہ ہو ۲؎ کسی کو کسی پر بزرگی نہیں مگر دین اور تقویٰ سے انسان کے لیے یہ شرم و عار کافی ہے کہ وہ بد زبان فحش گو کنجوس ہو۳؎(احمد،بیہقی شعب الایمان) |
۱؎ یعنی کوئی شخص کسی کو نسب کی گالی نہ دے نسب گالی و عار نہیں جیسے کہا جاتا ہے او جولائے،او نائی وغیرہ یہ حرام ہے نسب کو گالی نہ بناؤ یہ مرض بھی مسلمانوں میں بہت ہے۔
۲؎ طف ط کے فتحہ سے ف کے شد سے بمعنی کم ہونا کم کرنا اسی سے ہے تطفیف بمعنی کم تولنا،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَیۡلٌ لِّلْمُطَفِّفِیۡنَ"۔اصطلاح میں طف وہ چیز ہے جو صاع وغیرہ پیمانہ میں بھری جاوے مگر اسے پُر نہ کرے کچھ خالی رہے۔مطلب یہ ہے کہ ہر انسان پور ا کامل انسان نہیں اس میں کچھ کمی و نقصان ضرور ہے جیسے صاع پیمانہ کا طف کہ اس میں کمی ہوتی ہے۔
۳؎ یعنی یہ خصلتیں شرم و عار کی چیزیں ہیں نہ کہ محض نسب لہذا ان عیوب سے بچنے کی کوشش کرو نسب پر طعن کیسا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع