30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ محب کو پیارے کے سوا کچھ نظر نہیں آتا پیارے کی باتوں کے سوا اور کسی کی بات پسند نہیں آتی لہذا اچھوں سے محبت کرو تاکہ تمہاری آنکھوں میں ان کا ہی جمال رہے ان ہی کی سنو،یہ ہی اصل ایمان ہے۔شعر
تجھی کو دیکھنا تیری ہی سننا تجھ میں گم ہونا حقیقت معرفت اہلِ طریقت اس کو کہتے ہیں
ریاضت نام ہے تیری گلی میں آنے جانے کا تصور میں تیرے رہنا عبادت اس کو کہتے ہیں
عربی شاعر کہتا ہے۔
وعین الرضا عن کل عیب کلیلۃ ولکن عین السخط تبدی مساویا
ویفتج من سواك الفعل عندی فتفعلہ فیحسن منك ذاك
|
4909 -[17] عَن عُبَادَةَ بْنِ كَثِيرٍ الشَّامِيِّ مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ عَن امْرَأَةٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا فَسِيلَةُ أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يُحِبَّ الرَّجُلُ قَوْمَهُ؟ قَالَ: «لَا وَلَكِنْ مِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يَنْصُرَ الرَّجُلُ قَوْمَهُ عَلَى الظُّلْمِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ |
روایت ہے حضرت عبادہ ابن کثیر شامی سے ۱؎ جو فلسطین والوں سے ہیں وہ ان کی ایک عورت سے راوی جسے فسیلہ کہا جاتا ہے۲؎ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد سے فرماتے سنا کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا میں نے عرض کیا یارسول الله کیا یہ بھی تعصب سے ہے کہ کوئی شخص اپنی قوم سے محبت رکھے۳؎ فرمایا نہیں لیکن تعصب سے یہ ہے کہ کوئی شخص ظلم پر اپنی قوم کی مدد کرے ۴؎(احمد،ابن ماجہ) |
۱؎ حاشیہ اشعۃ اللمعات میں ہے کہ ان کا نام عباد ابن کثیر شامی ہے بادہ نام نہیں ہے۔والله اعلم! فلسطین مشہور ملک ہے جس میں بیت المقدس واقع ہے یہ علاقہ شام اور اردن سے ملا ہوا ہے اور فلسطین عراق کے ایک شہر کا نام بھی ہے ان راوی کے حالات معلوم نہ ہوسکے۔
۲؎ فسیلہ ف کے پیش اور سین کے فتح سے،اس کے لغوی معنی ہیں کجھور کا چھوٹا درخت یہ بی بی تابعیہ ہیں، ان کا نام جمیلہ بنت واثلہ ابن اسقع ہے ،حضرت واثلہ صحابی ہیں (تقریب حاشیہ اشعہ)فسیلہ کے حالات معلوم نہ ہوسکے۔
۳؎ یعنی فسیلہ کے والد حضرت واثلہ ابن اسقع نے حضور صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا اپنی قوم سے محبت کرنا گناہ ہے یہ بھی تعصب کی ایک قسم ہے۔
۴؎ یعنی اپنی قوم کی ناحق بات کو حق کہنا اگر وہ دوسری قوم کے آدمی پرظلم کرے تو اس ظالم کی حمایت کرنا صرف اس لیے کہ وہ اپنی قوم کا آدمی ہے یہ ہے تعصب یہ ہی حرام ہے یہ بیماری آج مسلمانوں میں بہت ہی ہے قومی تعصب،صوبائی تعصب بہت ہے اس لیے اس نے مسلمان قوم کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے،سارے مسلمان ایک قوم ہیں خواہ کسی نسب کے ہوں یا کسی ملک کے۔
|
4910 -[18] وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْسَابُكُمْ هَذِهِ لَيْسَتْ بِمَسَبَّةٍ عَلَى أَحَدٍ كُلُّكُمْ بَنُو آدَمَ طَفُّ الصَّاعِ بِالصَّاعِ لَمْ تملؤوه لَيْسَ لِأَحَدٍ عَلَى أَحَدٍ فَضْلٌ إِلَّا بِدِينٍ وَتَقْوًى كَفَى بِالرَّجُلِ أَنْ يَكُونَ بَذِيًّا فَاحِشًا بَخِيلًا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» |
روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تمہارے یہ نسب کسی پر گالی کا سبب نہیں ہیں ۱؎ تم سب آدم کی اولاد ہو جیسے صاع کی چیز صاع سے ہے جسے اس نے بھرا نہ ہو ۲؎ کسی کو کسی پر بزرگی نہیں مگر دین اور تقویٰ سے انسان کے لیے یہ شرم و عار کافی ہے کہ وہ بد زبان فحش گو کنجوس ہو۳؎(احمد،بیہقی شعب الایمان) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع