30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یعنی جو مسلمان اپنے کافر باپ داداؤں کی نسبت پر فخر کرے کہ فلاں کی اولاد سے ہوں،فلاں خاندان سے ہوں تو اس سے صاف صاف کہہ دو کہ اپنے باپ کا ذکر چوس یا یہ مطلب ہے کہ تم کفار کے عیوب بت پرستی کی برائیاں بیان کرو کہ تمہارے باپ دادا کے عقیدے اعمال ایسے گندے تھے تم ان کی نسبت پر فخر کیوں کرتے ہو۔
|
4903 -[11] وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عُقْبَةَ عَنْ أبي عُقبةَ وَكَانَ مَوْلًى مِنْ أَهْلِ فَارِسَ قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُحُدًا فَضَرَبْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَقُلْتُ خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الْغُلَامُ الْفَارِسِيُّ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: " هَلَّا قُلْتَ: خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الْغُلَامُ الْأَنْصَارِيُّ؟ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے عبدالرحمن ابن عقبہ سے وہ حضرت ابی عقبہ سے راوی ۱؎ اور وہ فارسی غلام سے تھے فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ احد میں حاضر ہوا تو میں نے مشرکین میں سے ایک شخص کو مارا تو میں نے کہا لے لے مجھ سے میں فارسی غلام ہوں ۲؎ تو میری طرف رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے دیکھا فرمایا تم نے کیوں نہ کہا کہ مجھ سے یہ لے اور میں انصاری غلام ہوں ۳؎(ابوداؤد) |
۱؎ یہ عبدالرحمن تابعی ہیں،ان کے والد ابوعقبہ صحابی ہیں یہ اہل فارس سے تھے،جبیر ابن عتیق انصاری کے آزاد کردہ غلام تھے لہذا نسبًا فارسی تھے مگر موالات کے لحاظ سے انصاری تھے،ان کا نام رشد ہے کنیت ابو عقبہ۔
۲؎ یعنی میں نے اپنے فارسی النسل ہونے پر فخرکرتے ہوئے کافر پر حملہ کیا۔
۳؎ یعنی حضور صلی الله علیہ وسلم نے فارسی ہونے کے فخر کرنے پر ناراضی کا اظہار فرمایا اور فرمایا کہ اپنے کو مسلمانوں کی طرف نسبت کرو اس پر فخر کرو اور اس زمانہ میں اہلِ فارس کفار تھے اب وہاں اسلام عام شائع ہے اور عام لوگ مسلمان ہیں چونکہ قوم کا مولا انہیں میں سے ہوتا ہے اس لیے انہیں غلام انصاری فرمایا گیا لہذا اس کا مطلب واضح ہے۔
|
4904 -[12] وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ نَصَرَ قَوْمَهُ عَلَى غَيْرِ الْحَقِّ فَهُوَ كَالْبَعِيرِ الَّذِي رَدَى فَهُوَ يُنزَعُ بذنَبِه» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ جو اپنی قوم کی ناحق پر مددکرے تو وہ اس اونٹ کی طرح ہے جو گڑھے میں گر گیا تو اسے اس کی دم سے اوپر کھینچا جاوے ۱؎ (ابوداؤد) |
۱؎ یعنی جو اپنی ظالم قوم کی بیجا حمایت کرکے انکی عزت و عظمت قائم کرنا چاہے وہ ایسا ہے جیسے کوئی کنویں میں گرے ہوئے اونٹ کو اس کی دم سے کھینچ کر نکالنے کی کوشش کرے۔اس فرمان عالی میں فاسق قوم کو گرے اونٹ سے تشبیہ دی گئی ان کے فسق و کفر کو کنویں سے جس میں وہ گرے ہیں اس شخص کا اس قوم کی حمایت کرنا گویا اسے دم پکڑ کر نکالنا ہے جیسے کنویں میں گرا اونٹ دم کے ذریعہ نہیں نکل سکتا ویسے ہی فاسق و بدکار ذلیل قوم ایسی تعریفوں سے عزت نہیں پاتی اگر تم انہیں عزت دینا چاہتے ہو تو ان کو گناہوں سے روکو راہ راست پر لگاؤ۔
|
4905 -[13] وَعَن واثلةَ بن الأسقَعِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْعَصَبِيَّةُ؟ قَالَ:«أَنْ تُعِينَ قَوْمَكَ عَلَى الظُّلْمِ» رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت واثلہ ابن اسقع سے فرماتے ہیں میں نے عر ض کیا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم تعصب کیا چیز ہے فرمایا یہ ہے کہ تم اپنی قوم کی ظلم پر مدد کرو ۱؎(ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع