30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4899 -[7] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ يَفْتَخِرُونَ بِآبَائِهِمُ الَّذِينَ مَاتُوا إِنَّمَا هُمْ فَحْمٌ مِنْ جَهَنَّمَ أَوْ لَيَكُونُنَّ أَهْوَنَ عَلَى اللَّهِ مِنَ الْجُعَلِ الَّذِي يُدَهْدِهُ الْخِرَاءَ بِأَنْفِهِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا بِالْآبَاءِ إِنَّمَا هُوَ مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ أَوْ فَاجِرٌ شَقِيٌّ النَّاسُ كُلُّهُمْ بَنُو آدَمَ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا قومیں اپنے مرے ہوئے باپ داداؤں پر فخر کرنے سے باز آجائیں جو باپ دادے دوزخ کے کوئلے ہیں ۱؎ ورنہ وہ الله پر اس گندگی کے کیڑے سے زیادہ ذلیل ہوجائیں گے جو اپنی ناک میں گندگی لگاتا ہے ۲؎ یقینًا الله نے تم سے جاہلیت کا تکبر دور فرمایا اور باپ داداؤں پر فخر دور فرمادیا ۳؎ انسان یا مؤمن متقی ہے یا کافر بدنصیب ہے۴؎ سارے لوگ حضرت آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے ہیں ۵؎ (ترمذی،ابوداؤد) |
۱؎ یعنی اگر تمہارے باپ دادے کافر تھے تو وہ یقینی دوزخ کے کوئلے ہیں اگر مؤمن تھے تو ممکن ہے کہ ان کا خاتمہ خراب ہوا ہو اور وہ دوزخ کے کوئلے بن چکے ہوں ان کے خاندان پر فخر کرنا بڑی ہی حماقت ہے اگر فخر کرو تو حضور کے امتی ہونے پر کہ الله تعالٰی نے ہم گنہگاروں کو ان کا دامن نصیب فرمایا۔
بریں نازمہ کہ ہستم امت تو گنہگار مہ ولیکن خوش نصیمہ
۲؎ جعل ج کے پیش ع کے فتحہ سے گندگی کا کیڑا جسے عرب خنفساء کہتے ہیں اردو والے گبریلہ۔یدھدہ بنا ہے دبدھۃ سے بمعنی لوٹنا،خراء پاخانہ یعنی جیسے گبریلہ کیڑا گندگی میں لوٹتا اسے اپنی منہ ناک پر ملتا ہے اور خوش ہوتا ہے مگر دنیا اس سے گھن کرتی ہے یہ ہی تمہارا حال ہوجاوے گا کہ تم اکڑ میں رہو گے دنیا تمہیں ذلیل سمجھے گی۔
۳؎ یعنی زمانہ جاہلیت میں لوگ باپ داداؤں پر فخرکرتے تھے الله تعالٰی نے تمہیں اسلام کی توفیق دے کر تم سے یہ عیب دور فرمادیا۔
۴؎ اس سے معلوم ہوا کہ انسان دو ہی قسم کے ہیں یا مؤمن یا کافر درمیان میں درجہ کوئی نہیں جو نہ مؤمن ہو نہ کافر۔
۵؎ سبحان الله! کس پاکیزہ طریقہ سے سمجھایا کہ کسی کی پیدائش سونے چاندی سے نہیں ہے سب مٹی سے پیدا ہوئے ہیں پھر فخر کیسا اور تکبر کس چیز پر ہاں اعمال اچھے کرو اچھے ہوجاؤ گے۔
|
4900 -[8] وَعَن مطرف بن عبدالله الشِّخّيرِ قَالَ:قَالَ أَبِي: انْطَلَقْتُ فِي وَفْدِ بَنِي عَامِرٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: أَنْتَ سَيِّدُنَا. فَقَالَ: «السَّيِّدُ اللَّهُ» فَقُلْنَا وَأَفْضَلُنَا فَضْلًا وَأَعْظَمُنَا طَوْلًا. فَقَالَ: «قُولُوا قَوْلَكُمْ أَوْ بَعْضَ قَوْلِكُمْ وَلَا يَسْتَجْرِيَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت مطرف بن عبدالله بن شخیر سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں بنی عامر کے وفد میں نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۲؎ تو ہم نے کہا کہ آپ ہمارے سید ہیں فرمایا سید تو الله ہے ۳؎ ہم نے عرض کیا کہ آپ ہم سب میں بڑی بزرگی والے اور بڑے عطا والے ہیں۴؎ تو فرمایا کہ اپنی یہ بات یا بعض بات کہو اور تم کو شیطان بے باک نہ کردے ۵؎(احمد،ابوداؤد) |
۱؎ مطرف تابعی بصری ہیں،بڑے متقی پرہیزگار تھے، ۸۷ ستاسی میں آپ کی وفات ہوئی،آپ کے والد عبدالله ابن شخیر صحابی ہیں۔
۲؎ وفد وہ جماعت کہلاتی تھی جو اپنی ساری قوم کی طرف سے نمائندہ بن کر حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوتی تھی اور ایمان قبول کرتی اس کا ایمان ساری قوم کا ایمان ہوتا،حضرت مطرف قبیلہ بنی عامر کے وفد میں حضور صلی الله علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔
۳؎ سید بہت معنی میں آتا ہے: سردار،مالک،مولٰی،خاوند،قرآن کریم فرماتاہے:"وَاَلْفَیَا سَیِّدَہَا لَدَا الْبَابِ"وہاں سید بمعنی خاوند ہے ان لوگوں نے حضور انور کو سید بمعنی سردار کہا تھا حضور صلی الله علیہ وسلم نے رب تعالٰی کو سید بمعنی مالک و خالق فرمایا یہ خصوصی ارشاد ہے لہذا ہم لوگ الله تعالٰی کو عمومًا سید نہیں کہہ سکتے۔خیال رہے کہ ان حضرات نے حضور انور کو سید کہا لفظ سید ہر سردار پیشوا کو کہا جاتا ہے انہیں چاہیے تھا کہ حضور کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نبی الله کہتے یہ خطاب کسی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع