دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

4205 -[47]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ كَالصَّائِمِ الصابر» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ شکر گزار کھانے والا ۱؎  صابر روزہ دار کی طرح ہے ۲؎(ترمذی)

۱؎ شکر کا اقل درجہ یہ ہے کہ بسم الله سے شروع کرے الحمدﷲ سے ختم کرے،عملی شکر یہ ہے کہ کھا پی کر رب تعالیٰ کی اطاعت کرے،الله توفیق دے۔

۲؎ روزہ دار کا کم سے کم صبر یہ ہے کہ اپنے روزہ کو روزہ توڑنے والی چیزوں سے محفوظ رکھے اور درمیانی شکر یہ ہے کہ مکروہات سے بچائے،اعلیٰ شکریہ ہے کہ ان چیزوں سے روزہ کو محفوظ رکھےجن سے روزہ غیر مقبول ہوتا ہےیعنی سر سے پاؤں تک ہر عضو کا روزہ ہو۔اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ایمان کے دو رکن ہیں: شکر اور صبر تو گویا نصف ایمان شکر ہے نصف ایمان صبر،نصف ہونے میں تشبیہ ہے ورنہ روزہ کا خصوصی درجہ وہ ہے جوکسی عبادت کو حاصل نہیں،فرماتا"الصوم لی وانا اجزی بہ روزہ میرا ہے اور اس کا ثواب میں ہی دوں گا یا اس کا ثواب خود میں ہوں۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ صابر روزہ دار تو کھانا پینا چھوڑ کر صبرکرتا ہے اور شاکر کھانے والا اس کھانے سے پیدا شدہ قوتوں کو ناجائز جگہ خرچ کرنے سے روک کر صبر کرتا ہے تو شاکر بھی بالواسطہ صابر ہی ہے۔بہرحال شکر کو صبر سے بہت مناسبت ہے۔

4206 -[48]وَابْن مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ عَنْ سِنَانِ بْنِ سَنَّةَ عَنْ أَبِيه

ابن ماجہ،دارمی بروایت سنان ابن سنہ وہ اپنے والد سے ۱؎

۱؎  سنان سین کے کسرہ اور نون کے فتحہ سے ہے،سنہ کے فتحہ اور نون کے شد سے۔بعض محدثین نے فرمایا کہ سنان اور سنہ دونوں باپ بیٹے صحابی ہیں،بعض نے فرمایا کہ سنان تابعی ہیں اور سنہ صحابی ہیں،سنہ اسلمی ہیں     ۳۲؁  بتیس ہجری میں خلافت عثمانیہ میں ان کی وفات ہوئی،ان کے حالات معلوم نہ ہوسکے۔(اشعہ)

4207 -[49]

وَعَن أبي أيوبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَ وَسَقَى وَسَوَّغَهُ وَجَعَلَ لَهُ مخرجا» رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابو ایوب سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب کھاتے یا پیتے تو کہتے شکر ہے اس الله کا جس نے کھلایا پلایا اور اسے بہ آسانی اتارا  ۱؎  اور اس کے نکلنے کا راستہ بنایا ۲؎(ابوداؤد)

۱؎  اس طرح کہ کھانا چبانے کو منہ میں دانت دیئے،کھانا تر کرنے کو منہ میں لعاب دیا،اسے گھمانے کے لیے منہ میں زبان بخشی،پھر اسے پیٹ میں پہنچانے کے لیے حلق کی فراخ نالی عطا فرمائی۔خیال رہے کہ تسویغ کھانے اور پانی کے لیے بولا جاتا ہے۔

۲؎  کہ ایک منہ سے کھانے پینے کی چیزیں اندر جاتی ہیں مگر دو راستوں سے نکلتی ہیں،کھانا اورراستہ سے پانی دوسرے راستہ سے،پھر معدہ کھانے کا خزانہ بنایا اور مثانہ پانی کا خزانہ بنایا پھر ان دونوں کے بعض اجزاء پر رونگٹے سے پسینہ بنا کر نکالا۔

4208 -[50]

وَعَن سلمانَ قَالَ: قَرَأْتُ فِي التَّوْرَاةِ أَنَّ بَرَكَةَ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ بَعْدَهُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَرَكَةُ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهُ وَالْوُضُوءُ بعدَه» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت سلمان سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ میں نے تورات میں پڑھا کہ ۲؎ کھانے کی برکت وضو کرنا ہے کھانے کے بعد۳؎  تو میں نے یہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے ذکر کیا ۴؎ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھانے کی برکت وضو کرنا ہے کھانے سے پہلے اور وضوکرنا ہے کھانے کے بعد ۵؎(ترمذی ،ابوداؤد)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن