30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵؎ یعنی اسلام لانے سے اعلیٰ خاندانی آدمی کی شرافت گھٹ نہیں جاتی بلکہ بڑھ جاتی ہے اور اگر وہ عالم باعمل بھی ہوجاوے تو صرف خاندانی مسلمان سے افضل ہوگا۔خلاصہ یہ ہے کہ جو زمانہ کفر میں اپنی قوم میں اعلیٰ و افضل ہو وہ مسلمان ہوکر بھی اعلیٰ و افضل ہی رہے گا اسے نو مسلم یا دیندار سمجھ کر ذلیل نہ سمجھا جاوے گا۔اگر وہ عالم باعمل بھی ہوجاوے تو اس کی شرافت کو اور چار چاند لگ جاویں گے مثلًا آج کوئی بڑا عزت والا پادری یا پنڈت مسلمان ہوجاوے تو اسے نو مسلم یا دیندار کہہ کر حقیر نہ جانو اس کی عزت و احترام باقی رکھو اور اگر وہ عالم ہوجاوے تو اس کا بہت احترام کرو یہاں فقہ سے مراد عالم باعمل ہے،پھر بھی مطلب وہ ہی ہوا کہ شرافت علم و تقویٰ پر ہے غرضکہ حسب ونسب دونوں کی شرافت کا اجتماع رب کی رحمت ہے۔
|
4894 -[2] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْكَرِيمُ ابْنُ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بنِ إِسحاقَ بن إِبراهيمَ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے شریف بیٹے شریف کے بیٹے شریف کے بیٹے شریف کے حضرت یوسف بیٹے یعقوب کے وہ بیٹے اسحاق کے وہ بیٹے ابراہیم کے ۱؎ (بخاری) |
۱؎ یعنی حضرت یوسف علیہ السلام میں حسبی شرافت تو یہ ہے کہ وہ خودکریم یعنی بنی اور تقویٰ و طہارت کے معلم ہیں۔نسبی شرافت یہ ہے کہ وہ تین پشت میں نبی زادے ہیں۔خیال رہے کہ پہلا الکریم الف سے پڑھا جاوے گا باقی دو بغیر الف،یوں ہی نبیوں میں ابن بغیر الف پڑھے جاویں گے کہ جب ابن دو صفتوں کے درمیان آوے تو بغیر الف پڑھا جاتا ہے۔(اشعہ،مرقات)
|
4895 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: فِي يَوْمِ حُنَيْنٍ كَانَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذًا بِعِنَانِ بَغْلَتِهِ يَعْنِي بَغْلَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا غَشِيَهُ الْمُشْرِكُونَ نَزَلَ فَجَعَلَ يَقُولُ «أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبَ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ»قَالَ: فَمَا رُئِيَ مِنَ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ أَشَدُّ مِنْهُ. |
روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے وہ حنین کے متعلق فرماتے ہیں ۱؎ کہ ابو سفیان ابن حارث آپ کے یعنی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے خچر کی لگام پکڑے ہوئے تھے ۲؎ تو جب مشرکین نے آپ کو گھیر لیا تو آپ اترے کہنے لگے میں جھوٹا نبی نہیں میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۳؎ فرماتے ہیں اس دن حضور سے زیادہ کوئی بہادرنہیں دیکھا گیا ۴؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ حنین مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان ایک وسیع پتھریلا علاقہ ہے،اس فقیر نے اس میدان کی زیارت کی ہے،فتح مکہ کے بعد یہ غزوہ واقع ہوا قبیلہ ہوازن سے یہ جنگ ہوئی۔
۲؎ یہ ابوسفیان ابن حارث ابن عبدالمطلب ہیں حضور صلی الله علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور حضور کے اخیافی بھائی کہ حلیمہ دائی بنت ذویب سعدیہ کا دودھ انہوں نے بھی پیا ہے،بڑے شاعر تھے،زمانہ کفر میں حضور انور کے خلاف انہوں نے بہت اشعار لکھے تھے جن کے جواب حضرت حسان نے دیئے تھے،پھر الله نے اسلام کی توفیق دی تو بعد اسلام کبھی حضور کے سامنے سر نہ اٹھایا شرم کی وجہ سے،فتح مکہ کے سال مسلمان ہوئے،حضرت علی مرتضیٰ نے ان سے کہا تھا کہ حضور کے سامنے جا کھڑا ہوؤ اوریہ آیت پڑھو"تَالله لَقَدْ اٰثَرَکَ الله عَلَیۡنَا وَ اِنۡ کُنَّا لَخٰطِئِیۡنَ"چنانچہ انہوں نے یہ ہی کہا،حضور انور نے فرمایا:"لَا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع