30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پہلی فصل
۱؎ ایک دوسرے پر ذاتی بڑائی ظاہر کرنا کہ میں تجھ سے اونچا ہوں یہ ہے تفاخر،یہ کفار کے مقابل یا ضرورت کے وقت مسلمان سے بھی کرسکتے ہیں جبکہ اس میں دینی مصلحت ہو۔نفسانی فخر حرام ہے کہ یہ تکبر ہے اور تکبر حرام ۔تعصب بنا ہے عصب سے بمعنی قوت۔ اصطلاح میں جماعت میں کنبہ و قوم کو عصب کہاجاتا ہے۔قرآن کریم میں ہے "وَنَحْنُ عُصْبَۃٌ"۔تعصب کے معنی ہیں اپنے کنبہ،اپنی قوم،اپنے دھڑے کی حمایت کرنا اگر حق حمایت ہے تو جائز ہے ناحق ہے تو حرام ہے۔
|
4893 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَي النَّاس أكْرم؟ فَقَالَ: «أَكْرَمُهُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاهُمْ» . قَالُوا: لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ. قَالَ: «فَأَكْرَمُ النَّاسِ يُوسُفُ نَبِيُّ اللَّهِ ابْنُ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ خَلِيلِ اللَّهِ» . قَالُوا: لَيْسَ عَن هَذَا نَسْأَلك. قَالَ: «فَمِمَّنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِي؟» قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: فَخِيَارُكُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُكُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا ". مُتَّفق عَلَيْهِ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں کون زیادہ عزت والا ہے ۱؎ فرمایا سب میں عزت والا الله کے نزدیک ان میں بڑا پرہیزگار ہے ۲؎ بولے اس کے متعلق ہم نہیں پوچھتے فرمایا تو لوگوں میں بڑے اشرف یوسف ہیں الله کے نبی اورنبی اللہ کے بیٹے وہ خلیل الله کے بیٹے۳؎ وہ بولے ہم اس کے متعلق آپ سے نہیں پوچھتے فرمایا تو کیا عرب کے قبیلوں کے متعلق تم مجھ سے پوچھتے ہو۴؎ بولے ہاں فرمایا تم میں سے جو جاہلیت میں بہتر تھے وہ اسلام میں بھی بہترین ہیں جب کہ عالم ہوجاویں ۵؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ الله کے نزدیک یا دنیا و آخرت میں کون محترم ہے۔
۲؎ چنانچہ قرآن کریم فرماتاہے:"اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنۡدَ اللہِ اَتْقٰىکُمْ"۔خیال رہے کہ انسان کیلئے تقویٰ ذاتی شرافت وعزت ہے اسے حسب کہتے ہیں اور عالی خاندان عارضی عزت ہے اسے نسب کہتے ہیں مبارک ہے وہ جو حسب و نسب دونوں میں اعلیٰ ہو۔
۳؎ یعنی یوسف علیہ السلام حسب و نسب دونوں میں بہت اعلیٰ ہیں کہ خود بھی نبی ہیں یہ ان کی حسبی عظمت ہے ان کے تین پشت میں نبوت ہے کہ والد نبی دادا پردادا نبی یہ ان کی نسبی شرافت ہے یہ ان کی خصوصیت ہے جیسے حضرات صحابہ میں ابو بکر صدیق کہ حسبی اشرف بھی ہیں کہ صدیق ہیں نسبی اشرف بھی کہ آپ کی چار پشتوں میں صحابیت ہے خود صحابی ماں باپ اولاد صحابی پوتے نواسے صحابی یہ آپ کی خصوصیت ہے۔حضرت یوسف علیہ السلام میں نبوت،علم،عالی نسبی جود و سخا،عدل دین دنیا کی ریاست جمع ہیں۔
۴؎ معادن جمع ہے معدن کی بمعنی کان،قبیلہ کو معدن کہتے ہیں کہ وہ ایک جماعت کی کان ہوتا ہے یعنی کیا تم مجھ سے عرب کے قبائل کے متعلق پوچھتے ہو کہ کونسا قبیلہ اشرف ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع