30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی حضور صلی الله علیہ وسلم کو کسی بات کا جواب بلند آواز سے دے رہی تھیں یا بے پرواہی میں یا غصہ میں محبوب کا غصہ بھی پیارا ہوتا ہے اسی لیے اس پر قرآن کریم میں عتاب نہیں آیا ورنہ قرآن کریم فرماتا ہے:"لَا تَرْفَعُوۡۤا اَصْوٰتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ"۔
۳؎ اس جملہ کی روایت تین طرح ہے: لا اراك میں تم کو دیکھ رہا ہوں،لا اراك میں تم کو آئندہ نہ دیکھوں،لا اراك کیا میں تم کو نہیں دیکھتا دوسری روایت قوی تر ہے کہ یہ کلمہ نہیں ہے اور مطلب یہ ہے کہ آپ نے گزشتہ پر سزا دینے کے لیے طمانچہ مارنا چاہا اور آئندہ کے لیے منع فرمایا یہ طمانچہ اس تادیب میں سے ہے جو والدین اپنی اولاد کو کیا کرتے ہیں۔مرقات نے فرمایا کہ یہ کلمہ دعا ہے یعنی خدا کرے میں تم کو حضور کے سامنے اونچی آواز کرتے نہ دیکھوں۔
۴؎ یا اس طرح کہ حضور انور نے حضرت صدیق کو پکڑ لیا کہ وہ نہ ماریں یا اس طرح کہ حضور انور دونوں کے درمیان آڑ ہوگئے کہ حضرت صدیق و صدیقہ کے درمیان کھڑے ہوگئے۔
۵؎ حضرت عائشہ صدیقہ پر ناراض ہوکر گھر سے باہر چلے گئے یہ ناراضگی بھی عبادت ہے۔
۶؎ خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے یہاں من ایک نہ فرمایا الرجل فرمایا یعنی بہادر مرد جسے الله رسول کے لیے تم پر غصہ آیا یہ غصہ ان کی بہادری کی علامت ہے۔(مرقات)
۷؎ یعنی کچھ روز حضرت عائشہ صدیقہ کے گھر نہ آئے یا اتفاقًا یا حضرت صدیقہ پر ناراضگی کی وجہ سے،پہلا احتمال قوی ہے پھر حاضر ہوئے شاید تین روز کے بعد حاضر ہوئے۔
۸؎ صلح سے مراد پیارومحبت ہے اور حرب سے مراد وہ ناراضگی جو زوجین کی آپس میں ہو جاتی ہے یہ ناراضگی بھی زیادہ محبت کی بنا پر ہوتی ہے۔
۹؎ ادخال کی نسبت حضور کی طرف سبب کی بنا پر ہے یعنی آپ دونوں کی شکر رنجی میرے اس معاملہ میں دخل دینے کا باعث بنی۔
۱۰؎ حضور انور نے فعلنا دو بار فرمایا ایک بار اپنی طرف سے دوسری بار جناب عائشہ صدیقہ کی طرف سے یعنی میں نے اور تمہاری لخت جگر نورنظر عائشہ صدیقہ نے بھی اپنی صلح میں داخل کرلیا اس طرح کہ تم ہمیشہ کے لیے ہمارے ہر کام میں دخیل ہوگئے ہمارے گھر کے تم کار مختار ہوگئے رضی الله تعالیٰ عنہ۔اس حدیث کو باب المزاح میں صرف ایک جملہ کی وجہ سے لایا گیا کہ عائشہ دیکھا ہم نے تم کو کیسا بچایا۔
|
4892 -[9] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُمَارِ أَخَاكَ وَلَا تُمَازِحْهُ وَلَا تَعِدْهُ مَوْعِدًا فَتُخْلِفَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حديثٌ غَرِيب |
روایت ہے حضرت عباس سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا اپنے بھائی سے نہ جھگڑا کرو نہ اس کا مذاق اڑاؤ ۱؎ نہ اس سے کوئی وعدہ کرو جو خلاف کرو ۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ آپس کا مذاق جس سے ہر ایک کا دل خوش ہو یہ چند شرطوں سے جائز ہے جیساکہ عرض کیا جاچکا ہے مگر کسی کا مذاق اڑانا جس سے سامنے والے کو تکلیف پہنچے بہرحال حرام ہے وہ ہی یہاں مرادہے کیونکہ مسلمان کو ایذاء دینا حرام ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع