30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4890 -[7] وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ فَسَلَّمْتُ فَرَدَّ عَلَيَّ وَقَالَ: «ادْخُلْ» فَقُلْتُ: أَكُلِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «كُلُّكَ» فَدَخَلْتُ. قَالَ عُثْمَان بن أبي عَاتِكَة: إِنَّمَا قَالَ أَدْخُلُ كُلِّي مِنْ صِغَرِ الْقُبَّةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عوف ابن مالک اشجعی سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں غزوہ تبوک میں حاضر ہوا آپ چمڑے کے خیمے میں تھے میں نے سلام کیا آپ نے مجھے جواب دیا اور فرمایا اندر آجاؤ میں نے کہا پورا یا رسول الله نے فرمایا تم پورے ہی آجاؤ ۲؎ میں حاضر ہوگیا عثمان ابن عاتکہ فرماتے ہیں۳؎ کہ انہوں نے خیمہ کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے عرض کیا کہ کیا پورا آجاؤں۔ (ابوداؤد) |
۱؎ صحابی ہیں،غزوہ خیبر میں حاضر ہوئے،فتح مکہ کے دن قبیلہ اشجع کا جھنڈا آپ کے ہاتھ تھا،شام میں رہے، ۷۳ تہتر میں وفات پائی۔
۲؎ سبحان الله! کیسا پیارا کلام ہے۔مقصد یہ ہے کہ خیمہ چھوٹا ہے اس میں گنجائش ہے نہیں میں کل پورا کا پورا آجاؤں یا میرا کچھ حصہ آئے ظاہر معنی مراد ہیں۔
۳؎ یہ عثمان تابعی ہیں،حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے وقت آپ کل آٹھ سال سات ماہ کے تھے۔
|
4891 -[8] وَعَن النعمانِ بن بشيرٍ قَالَ: اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ صَوْتَ عَائِشَةَ عَالِيًا فَلَمَّا دَخَلَ تَنَاوَلَهَا لِيَلْطِمَهَا وَقَالَ: لَا أَرَاكِ تَرْفَعِينَ صَوْتَكِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يحجزه وَأَبُو بَكْرٍ مُغْضَبًا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ: «كَيْفَ رَأَيْتِنِي أَنْقَذْتُكِ مِنَ الرَّجُلِ؟» . قَالَتْ: فَمَكَثَ أَبُو بَكْرٍ أَيَّامًا ثُمَّ اسْتَأْذَنَ فَوَجَدَهُمَا قَدِ اصْطَلَحَا فَقَالَ لَهُمَا: أَدْخِلَانِي فِي سِلْمِكُمَا كَمَا أَدْخَلْتُمَانِي فِي حَرْبِكُمَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ فَعَلْنَا قَدْ فَعَلْنَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے ۱؎ فرماتے ہیں اجازت مانگی حضرت ابوبکر نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے تو حضرت عائشہ کی آواز سنی بلند ۲؎ تو جب آئے تو انہیں پکڑا تاکہ طمانچہ مار دیں اور فرمایا میں تم کو نہ دیکھوں کہ تم اپنی آواز نبی صلی الله علیہ وسلم پر اونچی کرتی ہو۳؎ تو نبی صلی الله علیہ وسلم ان کو روکنے لگے۴؎ اور حضرت ابوبکر ناراض ہوکر چلے گئے ۵؎ تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب کہ ابوبکر صدیق چلے گئے بولو تم نے مجھے کیسا دیکھا میں نے تم کو ان صاحب سے بچالیا ۶؎ راوی کہتے ہیں کہ پھر کچھ دن حضرت ابوبکر ٹھہرے پھر اجازت مانگی ۷؎ تو ان دونوں حضرات کو صلح محبت میں پایا ان سے عرض کیا کہ مجھے اپنی صلح صفائی میں داخل کرلو ۸؎ جیسے تم نے مجھے ا پنی لڑائی میں داخل کیا تھا ۹؎ تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہم نے کرلیا ہم نے کرلیا ۱۰؎ (ابوداؤد) |
۱؎ آپ کے حالات زندگی بارہا بیان ہوچکے کہ آپ اسلام میں پہلے فرزند ہیں جو اسلام میں پیدا ہوئے،حضور انور کی وفات کے وقت آپ کی عمر آٹھ سال سات ماہ کی تھی،آپ کے والدین صحابی ہیں،بقیہ حالات بیان کیے جاچکے ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع