دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

۱؎ ان خوش نصیب صحابی کے حالات معلوم نہ ہوسکے حتی کہ صاحب مشکوۃ نے اپنی کتاب اکمال میں بھی بیان نہیں کیے کیونکہ یہ صحابی کسی حدیث کے راوی نہیں۔

۲؎ یعنی دیہاتی چیزیں پھل پھلاری،کھیت کی پیداوار وغیرہ حضور انور کے لیے تحفہ ہی لایا کرتے تھے۔

۳؎  یعنی جب زاہر مدینہ منورہ سے واپس جانے لگتے تو حضور صلی الله علیہ وسلم شہری چیزیں بطور ہدیہ و سوغات ان کو دیتے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے گھر لے جائیں۔

۴؎  یعنی زاہر ہماری دیہاتی ضرورتیں پوری کرتے رہتے ہیں اور ہم زاہر کی شہری ضروریات پوری کرتے رہتے ہیں گویا زاہر ہمارا گاؤں ہیں اور ہم زاہر کا شہر یہ اخلاق کریمانہ ہیں کہ اپنے غلاموں نیاز مندوں کو ان القاب سے نوازتے ہیں۔

۵؎  حضور صلی الله علیہ وسلم ان سے بہت ہی محبت فرماتے تھے اگرچہ وہ ویسے ہی تھے جیسے حبشی لوگ خصوصًا دیہاتی ہوتے ہیں شکل و لباس دیہات کا سا۔دمیم کے معنی ہوتے ہیں بدشکل۔(مرقات)مگر اس کی شکل پر ہزاروں خوبصورت قربان جسے پیا چاہے وہ سہاگن

۶؎ اس طرح کہ حضور انور ان کے پیچھے بیٹھے انہیں پیچھے سے اپنی گود میں لے لیا ان کی بغلوں میں سے ہاتھ ڈال کر اپنا ہاتھ شریف زاہر کی آنکھوں پر رکھ لیا یعنی پہچانو ہم کون ہیں۔کاش! میں اس وقت زاہر کے پاس ہوتا تو اس کے قدم سے اپنی آنکھیں ملتا۔رضی الله تعالیٰ عنہ یہ واقعہ بیچ بازار میں ہورہا ہے۔

۷؎  حضرت زاہر پہچان تو پہلے ہی گئے ہوں گےبھلا حضور کی خوشبو مہک کسی اور میں کہا۔مقصد یہ ہے کہ جب انہوں نے حضور کو آنکھوں دیکھ لیا بذریعہ کنکھیوں کے لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کے جسم اطہر میں ایسی خوشبو تھی کہ جس گلی سے گزرتے وہاں کے گھروں میں بیٹھے ہوئے لوگ پہچان جاتے تھے کہ حضور گزرے۔شعر

آمدی از پس ببازی چشم پوشیدی مرا                        اے نگاہ دست رنگین دست بکشا کیتی

۸؎  حضرت زاہر نے یہ موقعہ غنیمت جانا کہ خود حضور انور نے مجھے اپنی گود میں لے لیا ہے اور اپنا سینہ میری پشت سے متصل کردیا ہے ایسے موقعہ بار بار ہاتھ نہیں آتے اس لیے اپنی پشت کو حضور کے سینہ انور سے خوب مس کیا برکت حاصل کرنے کے لیے۔معلوم ہوا کہ اپنے خدام سے خوش طبعی کرنا سنت رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے ثابت ہے اور برکت کے لیے بزرگوں کا جسم ان کے کپڑے چھونے سنت صحابہ ہے۔

۹؎  یہ کلام بالکل حق ہے۔عبد سے مراد ہے  عبدالله،خریدنے سے مراد ہے اس کے عوض دوسرا لانا یعنی کون ہے جو اس جیسا الله  کا بندہ مجھے دکھائے یا اشتراء میں تجرید ہے لہذا بمعنی یاخذ ہے یعنی اس الله کے بندے کو کون لیتا ہے مجھے سے۔(مرقات)

۱۰؎  یعنی مجھ میں نہ شکل نہ عقل نہ رنگ نہ ڈھنگ مجھے کون قبول کرے گا ایسوں کو کون لیتا ہے میں آپ کا کیسے ہو سکتا ہوں۔

۱۱؎  جو حضور کا ہو جاوے وہ بے قیمت کیسے ہوسکتا ہے انکی قیمت سارا جہان نہیں ہوسکتا۔مدینہ منورہ میں ایک صاحب تھے بازار میں جو نئی چیز دیکھتے حضور انور کی خدمت میں ہدیہ لے آتے تھے جب چیز کا مالک قیمت مانگتا ہے تو اسے بھی حضور کے پاس لے آتے،عرض کرتے حضور فلاں دن جو حضور کے پاس فلاں چیز میں نے حاضر کی تھی اس کی قیمت حضور اسے دے دیں یہ تقاضا کررہا ہے،حضور تبسم فرماکر فرماتے کہ تم نے تو وہ چیز ہم کو ہدیۃً دی تھی،عرض کرتے حضور میری پاس اس کی قیمت کہاں سے آئی حضور قیمت ادا فرماتے مگر ان سے کچھ نہ کہتے۔(مرقات)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن