30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4885 -[2] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُدَاعِبُنَا. قَالَ: «إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے ابوہریرہ سے فرماتے ہیں صحابہ نے عرض کیا یارسول الله آپ ہم سے خوش طبعی فرماتے ہیں ۱؎ فرمایا ہم نہیں کہتے مگر سچی بات ۲؎(ترمذی) |
۱؎ یعنی آقا حضور دونوں جہاں کے والی ہیں ہم لوگ نوکر چاکر حضور کے خدام ہیں،ہم جیسوں سے حضور انور کا خوش طبعی فرمانا حیرت در حیرت ہے یا مطلب یہ ہے کہ وہ حضرت خوش طبعی کو ناجائز سمجھتے تھے تب یہ عرض کیا۔
۲؎ یعنی وہ دل لگی و مذاق حرام ہے جس میں جھوٹ بولا جاوے یا کسی کو ذلیل کیا جاوے ہماری خوش طبعی میں یہ دونوں باتیں نہیں ہوتی لہذا یہ جائز ہے۔خیال رہے کہ ہر وقت دل لگی و مذاق ہیبت دورکر دیتا ہے اس لیے کبھی کبھی شاذ و نادر ہی چاہے۔
|
4886 -[3] وَعَن أنسٍ أَنَّ رَجُلًا اسْتَحْمَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنِّي حَامِلُكَ عَلَى وَلَدِ نَاقَةٍ؟» فَقَالَ: مَا أَصْنَعُ بِوَلَدِ النَّاقَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَهَلْ تَلِدُ الْإِبِلُ إِلَّا النُّوقُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت انس سے ایک شخص نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سواری مانگی تو فرمایا کہ ہم تم کو اونٹنی کے بچہ پر سوار کریں گے ۱؎ وہ بولا میں اونٹنی کے بچہ کا کیا کروں گا تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونٹ کو اونٹنی ہی جنتی ہے ۲؎(ترمذی، ابوداؤد) |
۱؎ اصطلاح میں اونٹنی کا بچہ چھوٹے اونٹ کو کہتے ہیں جو سواری کے لائق نہ ہو۔یہ ہوئی خوش طبعی وہ صاحب بھی یہ ہی سمجھے کہ حضور انور مجھے چھوٹا سا اونٹنی کا بچہ عطا فرمائیں گے اس پر انہوں نے وہ عرض و معروض کی جو آگے آرہی ہے۔
۲؎ یعنی اونٹ بڑا ہوکر بھی اونٹنی کا ہی بچہ رہتا ہےکسی اور جانور کا بچہ نہیں بن جاتا۔معلوم ہوا کہ خوش طبعی میں کسی لفظ کے بعید معنی مراد لینا جائز ہے۔
|
4887 -[4] وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ |
روایت ہے انہیں سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اے دو کانوں والے ۱؎(ابوداؤد، ترمذی) |
۱؎ حضرت انس کے دونوں کان کسی قدر بڑے تھے اس لیے انہیں دو کان والے فرمایا جیسے خرباق ابن ساریہ کو ذوالیدین فرمایا کرتے تھے یا حضرت انس کی قوت سماعت بہت قوی تھی یا آپ بہت ذکی و ذہین تھے۔بہرحال اس فرمان عالی میں حضرت انس کی تعریف بھی ہے اور خوش طبعی بھی،یہ ہے اس سید الصادقین کی خوش طبعی۔(مرقات)
|
4888 -[5] وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِامْرَأَةٍ عَجُوزٍ: «إِنَّهُ لَا تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَجُوزٌ» فَقَالَتْ: وَمَا لَهُنَّ؟ وَكَانَتْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ. فَقَالَ لَهَا: «أَمَا تَقْرَئِينَ الْقُرْآنَ؟ (إِنَّا أَنْشَأْنَاهُنَّ إِنشاءً فجعلناهُنَّ أَبْكَارًا)رَوَاهُ رَزِينٌ. وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ» بِلَفْظِ «الْمَصَابِيحِ» |
روایت ہے انہیں سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ حضور نے ایک بوڑھی سے فرمایا ۱؎ کہ جنت میں بوڑھی نہ جائے گی وہ بولی ان کا کیا بنے گا ؟ ۲؎ وہ قرآن پڑھتی تھی ۳؎ فرمایا کیا تم قرآن میں نہیں پڑھتی کہ ہم انہیں پیدا کریں گے دوبارہ پیدائش تو انہیں کنواریاں بنادیں گے۴؎(رزین)اور شرح سنہ میں مصابیح کے لفظ سے ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع