دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

4882 -[5]

وَعَن عبدِ الله بن عامرٍ قَالَ: دَعَتْنِي أُمِّي يَوْمًا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ فِي بَيْتِنَا فَقَالَتْ: هَا تَعَالَ أُعْطِيكَ. فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَرَدْتِ أَنْ تُعْطِيهِ؟» قَالَتْ: أَرَدْتُ أَنْ أُعْطِيَهُ تَمْرًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنَّكِ لَوْ لَمْ تُعْطِيهِ شَيْئًا كُتِبَتْ عَلَيْكِ كَذِبَةٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»

روایت ہے حضرت عبداللہ بن عامر سے ۱؎ فرماتے ہیں مجھے میری ماں نے ایک دن بلایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف فرما تھے وہ بولیں آتجھے دوں گی۲؎ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم انہیں کیا دینا چاہتی ہو۳؎ بولیں میں نے اسے کھجوریں دینے کا ارادہ کیا تب ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آگاہ رہو اگر تم اسے کچھ نہ دیتیں تو تم پر جھوٹ لکھا جاتا ۴؎(ابوداؤد،بیہقی شعب الایمان)

۱؎ آپ عبداللہ ابن عامر ابن کریز ابن حبیب ابن عبدشمس ابن عبدمناف ہیں،قرشی ہیں،جناب حضرت عثمان غنی کے ماموں ہیں،تیرہ برس کی عمر شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے،خلافت عثمانی میں بصرہ خراسان کے حاکم رہے،امیر معاویہ نے آپ کو اس عہد پر قائم رکھا،خراسان کے فاتح آپ ہی ہیں فارس، اصفہان،کرمان،حلوان وغیرہ آپ نے ہی فتح کیے،بصرہ کی نہر آپ نے ہی کھدوائی،بڑے عالم سخی عابد تھے       ۵۹؁  انسٹھ میں وفات پائی۔(مرقات واشعہ)

۲؎ چھوٹے بچے ضدکرکے گھر سے بھاگ جاتے ہیں جب ماں کچھ دینے کا بہانہ کرکے بلاتی ہے تب آتے ہیں یہ ہی واقعہ یہاں ہوا تھا۔

۳؎  یعنی تم نے جو کہا کہ تجھے کچھ دوں گی یہ جملہ خبریہ ہے جس میں سچ کا بھی احتمال ہے جھوٹ کا بھی بتاؤ تم اس بچہ کو کچھ دو گی یا نہیں اگر دینا نہیں ہے تو یہ کلام جھوٹا ہوا۔

۴؎  یہ فرمان عالی بہت ہی سبق آموز ہے کہ ماں چھوٹے بچوں کو جھوٹے بہانے سے نہ بلائے غلط خبر نہ دیں کہ یہ بھی جھوٹ ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

4883 -[6]

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ وَعَدَ رَجُلًا فَلَمْ يَأْتِ أَحَدُهُمَا إِلَى وَقْتِ الصَّلَاةِ وَذَهَبَ الَّذِي جَاءَ لِيُصَلِّيَ فَلَا إِثمَ عليهِ» . رَوَاهُ رزين

روایت ہے حضرت زید ابن ارقم سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کسی شخص سے وعدہ کرے پھر ان میں سے ایک نماز کے وقت تک نہ آئے ۱؎ اور جانے والا نماز کے لیے چلا جاوے تو اس پر گناہ نہیں ۲؎ (رزین)

۱؎ یعنی دو مسلمانوں نے آپس میں وعدہ کیا کہ ہم فلاں وقت فلاں جگہ ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے وہاں آجانا۔

۲؎  یعنی ان دونوں سے ایک آدمی تو وقت پر پہنچ گیا دوسرا نہ پہنچا کہ وقت نماز آگیا یہ پہنچ جانے والا نماز کو چلا گیا پھر اس کے پیچھے دوسرا آیا تو وہ نماز کو چلا جانے والا گنہگار نہیں ہوا وہ اپنے وعدہ پر پہنچ گیا تھا۔خیال رہے کہ وہ جو حدیث شریف میں گزرا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وعدے کے موقعہ پر تین دن ایک ہی جگہ قیام فرمایا وہ واقعہ فرضیت نماز بلکہ ظہور نبوت سے پہلے کا ہے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ وعدہ پورا کرنا مستحب ہے،نماز فرض ہے،جماعت مستحب کے لیے فرض یا واجب نہیں چھوڑا جاسکتا۔


 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن