دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

4203 -[45]

وَعَن أُميَّةَ بن مَخْشِيٍّ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يَأْكُلُ فَلَمْ يُسَمِّ حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْ طَعَامِهِ إِلَّا لُقْمَةٌ فَلَمَّا رَفَعَهَا إِلَى فِيهِ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ فَضَحِكَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: «مَا زَالَ الشَّيْطَانُ يَأْكُلُ مَعَهُ فَلَمَّا ذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ اسْتَقَاءَ مَا فِي بَطْنه» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت امیہ ابن محشِی سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ایک شخص کھاتا تھا تو اس نے بسم الله نہ پڑھی حتی کہ نہ باقی رہا اس کے کھانے سے مگر ایک لقمہ پھر جب اسے اپنے منہ کی طرف اٹھایا تو اس کے اول و آخر بسم الله ۲؎ کہا حضور ہنس پڑے پھر فرمایا کہ شیطان اس کے ساتھ کھاتا رہا پھر جب اس نے الله کا نام لیا تو جو کچھ اس کے پیٹ میں تھا سب قے کردیا ۳؎(ابوداؤد)

۱؎ آپ کی کنیت ابو عبید ہے،امیہ تصغیر سے ہے اور محشِی میم کے فتح شین کے کسرہ ی کی شد سے ہے،آپ صحابی ہیں،خزاعی اسدی ہیں،بصرہ میں قیام رہا، آپ سے صرف یہ ہی ایک حدیث مروی ہے۔(مرقات و اشعہ)

۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ کھانا شروع کرتے وقت پوری بسم الله پڑھے لیکن اگر بیچ میں یاد آوے تو صرف بسم الله کہے اور ساتھ ہی اولہ و آخرہ کہہ لے۔یہ اصل میں فی اولہ و آخرہ تھا فی کو پوشیدہ کرکے اول آخر کو فتح دے دیا گیا۔

۳؎  حضور صلی الله علیہ وسلم کی نظریں حقیقت میں چھپی مخلوق کو بھی ملاحظہ فرماتی ہیں اور حدیث بالکل اپنے ظاہری معنی پر ہے کہ کسی تاویل کی ضرورت نہیں جیسے ہمارا معدہ مکھی والا کھانا ہضم نہیں کرسکتا ایسے شیطان کا معدہ بسم الله والا کھانا ہضم نہیں کرتا اگرچہ اس کا قے کیا ہوا کھانا ہمارے کام نہیں آتا مگر مردود تو بیمار بھی پڑ جاتا ہے اور بھوکا بھی رہ جاتا ہے اور ہمارے کھانے کی فوت شدہ برکت لوٹ آتی ہے۔غرضیکہ اس میں ہمارا فائدہ ہے اس کے دو نقصان اور ممکن ہے کہ وہ مردود آئندہ ہمارے ساتھ بغیر بسم الله والا کھانا بھی ڈر کے سبب نہ کھائے کہ شاید یہ بیچ میں بسم الله پڑھ لے اور مجھے قے کرنی پڑے۔ غالبًا یہ شخص اکیلا کھا رہا تھا  اگر حضور انور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ کھاتا ہوتا تو بسم الله نہ بھولتا وہاں تو حاضرین بسم الله بلند آواز سے کہتے تھے اور ساتھیوں کو بسم الله کہنے کا حکم کرتے تھے۔

4204 -[46]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ:«الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب اپنے کھانے سے فارغ ہوتے تھے ۱؎ تو فرماتے تھے شکر ہے اس الله کا جس نے ہم کو کھلایاہم کو پلایا مسلمان بنایا ۲؎ (ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)۳؎

۱؎  خواہ اکیلے یا جماعت کے ساتھ پھر خواہ اپنے گھر والوں کے ساتھ خواہ مہمانوں کے ساتھ پھر خواہ اپنے گھر یا کسی اور کے گھر مہمان بن کر ہر کھانے کے بعد یہ دعا پڑھتے۔

۲؎  کھانے پانی سے جسم کی پرورش ہے، اسلام وایمان سے جان و دل کی پرورش،ان دونوں نعمتوں پر شکر کرتے تھے کیونکہ شکر سے نعمت بڑھتی ہے،قرآن مجید کا وعدہ ہے، فقط پانی پی کر یہ دعا نہ پڑھتے تھے وہاں صرف الحمد ﷲ کہتے تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ ہر نئی نعمت پا کر نیا شکر کرے چونکہ کھانا اصل مقصود ہے اور پانی اس کے تابع اس لیے نعمت ظاہری کا ذکر پہلے فرماتے تھے باطنی کا بعد میں،نیز دعا کو اسلام کے ذکر پر ختم فرمانا اس لیے تھا کہ خاتمہ ایمان پر میسر ہو۔(مرقات)

۳؎  یہ حدیث احمد اور نسائی نے بھی روایت کی،ابن سنی نے اپنی کتاب الیوم و اللیلۃ میں نقل فرمائی۔ غرضیکہ بہت محدثین نے نقل فرمائی۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن