30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے قول بغیر قسم قبول ہیں،وہ حضرات حضور سے احادیث روایت کرتے ہیں تو ان پر نہ جرح ہوتی ہے نہ ان سے قسم لی جاوے۔اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث کی تقسیم نہیں ورنہ حضرت جابر جناب فاطمہ زہراہ حضرت عباس سے یہ وعدہ پورا کراتے۔دوسرے یہ کہ جو ذاتِ کریم ایسی دیانتدار ہو وہ خلافت جیسی اہم چیز کبھی غصب نہیں کرسکتی حضرت صدیق اکبر خلیفہ برحق ہیں،دیانتدار ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے جانشین اسلام کے پہلے تاجدار ہیں۔
|
4879 -[2] عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْيَضَ قَدْ شَابَ وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يُشْبِهُهُ وَأَمَرَ لَنَا بِثَلَاثَةَ عَشَرَ قَلُوصًا فَذَهَبْنَا نَقْبِضُهَا فَأَتَانَا مَوْتُهُ فَلَمْ يُعْطُونَا شَيْئًا. فَلَمَّا قَامَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَةٌ فَلْيَجِئْ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَمَرَ لَنَا بِهَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ |
روایت ہے حضرت ابو جحیفہ سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سفید رنگت والا دیکھا کہ بڑھاپا آگیا تھا۲؎ اور حضرت حسن بن علی آپ کی ہم شکل تھے۳؎ اور ہمارے لیے تیرہ اونٹنیوں کا حکم جاری فرمایا ہم قبضہ کرنے گئے تو ہم کو آپکی وفات کی خبرپہنچ گئی۴؎ لوگوں نے ہم کو کچھ نہ دیا ۵؎ پھر جب حضرت ابوبکر قائم مقام ہوئے تو فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جس کا کوئی وعدہ ہو وہ آئے ۶؎ میں آپ کے طرف گیا میں نے آپ کو یہ خبر دی تو آپ نے ہمارے لیے ان کا حکم دیا ۷؎(ترمذی) |
۱؎ آپ کا نام وہب ابن عبداللہ ہے،کنیت ابو جحیفہ،لڑکپن میں حضور سے ملاقات کی،کوفہ میں قیام رہا،حضرت علی نے آپ کو وزیر خزانہ بنایا، آپ کے ساتھ تمام جنگلوں میں شامل رہے،کوفہ میں ۷۴ چوہتر میں وفات پائی وہاں ہی مزار ہے۔
۲؎ سفید مائل بہ سرخی خالص چٹا نہیں سر مبارک اور ڈاڑھی شریف میں بیس بال شریف سفید ہوئے جیساکہ دوسری احادیث سے ثابت ہے۔
۳؎ سر سے ناف تک حضرت حسن حضور کے ہم شکل تھے،ناف سے قدم تک حضرت حسین حضور کے ہم شکل تھے اور از سرتاپا جناب فاطمہ زہرا ہم شکل مصطفی تھیں اس لیے حضرت معاویہ امام حسن کو اپنے تخت پر بٹھاتے تھے اور آپ کا نہایت درجہ احترام فرماتے تھے،کہتے تھے کہ یہ ہم شکل رسول آل رسول ہیں صلی اللہ علیہ وسلم رضی اللہ عنہم۔
۴؎ یعنی ہماری قوم کے لیے حضور انور سے تیرہ اونٹنیاں لے لینے کا حکم جاری فرمایا مدینہ منورہ سے کچھ دور جہاں حضورانور کی وفات کی خبر شائع ہوگئی۔
۵؎ یعنی جو اصطبل کے منتظم تھے انہوں نے ہم کو یہ اونٹنیاں نہ دیں کیونکہ حضور انور کی طرف سے ہبہ تو ہوگیا تھا مگر ابھی قبضہ نہیں ہوا تھا اور ہبہ بغیر قبضہ مکمل نہیں ہوتا اس لیے ان لوگوں کو اونٹنیاں دینے قبضہ کرانے کا حق نہ تھا۔
۶؎ جب خلافت کا معاملہ مکمل ہوگیا اور حالات پر سکون ہوگئے تب آپ نے یہ اعلان فرمایا اس لیے فلما قام فرمایا۔(مرقات)
۷؎ یعنی ان اونٹنیوں پرقبضہ کرلینے کا حکم جاری فرمایا ۔خیال رہے کہ بہت سے وعدے اکیلے میں کیے جاتے ہیں جن پر گواہ نہیں ہوتے اگر جناب صدیق گواہی کی قید لگاتے تو حضور انور کے بہت سے وعدے پورے نہ ہوسکتے اس لیے انہوں نے بغیر گواہ وعدے جاری فرمائے،نیز حضرات صحابہ تمام کے تمام عادل ہیں وہاں جھوٹ کا احتمال نہیں دیکھو ہماری کتاب امیر معاویہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع