دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

باب الوعد

وعدے کاباب  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  لغت میں اچھی چیز کی امید دلانے یا بری چیز سے ڈرانے ان دونوں کو وعدہ کہا جاتا ہے۔اصطلاح میں کسی چیز کی امید دلانے کو وعدہ کہتے ہیں،بری چیز سے ڈرانے کو وعید۔میں تم کو کچھ دوں گا وعدہ ہے،تم کو سزا دوں گا وعید ہے۔یہاں وعدہ اصطلاحی مراد ہے خلاف وعدہ کرنا جھوٹ ہے  خلاف وعید کرنا معافی،وعدہ خلافی بری چیز ہے معافی اچھی چیز ہے۔

4878 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَن جابرٍ قَالَ: لَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاء أَبُوبَكْرٍ مَالٌ مِنْ قِبَلِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ. فَقَالَ أَبُو بكر: من كَانَ لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ أَوْ كَانَتْ لَهُ قِبَلَهُ عِدَةٌ فَلْيَأْتِنَا. قَالَ جَابِرٌ: فَقُلْتُ: وَعَدَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعْطِيَنِي هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا. فَبَسَطَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. قَالَ جَابِرٌ: فَحَثَا لِي حَثْيَةً فَعَدَدْتُهَا فَإِذَا هِيَ خَمْسُمِائَةٍ وَقَالَ: خُذْ مثلَيها. مُتَّفق عَلَيْهِ

روایت ہے جابر سے فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اور حضرت ابوبکر کے پاس علاء بن حضرمی کے پاس سے مال آیا ۱؎  تو جناب ابوبکر نے اعلان فرمایا کہ جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ قرض ہو یا اس سے حضور کا کوئی وعدہ ہو تو ہمارے پاس آئے ۲؎ حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ فرمایا تھا کہ مجھے اتنا اور اتنا اور اتنا دیں گے ۳؎ آپ نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے تھے۴؎ حضرت جابر کہتے ہیں کہ جناب صدیق نے مجھے ایک لپ بھردیا ۵؎ میں نے گنا تو وہ پانچ سو تھے فرمایا اس کے دوگنے اور لے لو ۶؎ (مسلم،بخاری)

۱؎  علاء ابن حضرمی صحابی ہیں،حضر موت کے رہنے والے ان کا نام عبداللہ ہے،حضور انور نے انہیں یمن کا حاکم مقرر فرمایا عہد صدیقی وفاروقی میں بھی اسی عہدے پر رہے حتی کہ           ۱۴؁ چودہ ہجری میں آپ کی وفات ہوئی،یہاں یمن سے مال آنے کا ذکر ہے۔(مرقات)

۲؎ اور ہم سے حضور کا قرض وصول کرے حضور کا وعدہ پورا کرائے۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ وعدہ مثل قرض کے ہے۔دوسرے یہ کہ مرحوم کی طرف سے اس کے قرض ادا کردینا اس کے وعدے پورے کرنا سنت ہے خواہ کوئی میت کا عزیز کرے یا کوئی اور اس وجہ سے حضرت صدیق باغ فدک کی آمدنی حضور کے اہل پر خرچ کرتے تھے۔(مرقات)

۳؎  یعنی تم کو تین لپ بھر کر درہم دینار عطا فرمائیں گے یہ وعدہ عطیہ خسروانہ عنایت شاہانہ کے طور پر تھا۔

۴؎  یعنی حضور انور نے اپنے لپ بھر کر عطا کا وعدہ فرمایا تھا نہ کہ میرے لپ بھر کر۔

۵؎  معلوم ہوا کہ حضور کے بعد حضرت ابوبکر صدیق کا ہاتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دستِ کرم تھا کہ حضور انور نے اپنے لپ بھر دینے کا وعدہ فرمایا تھا حضرت صدیق اکبر نے اپنا ہاتھ بھر کر انکی جھولی میں ڈالا تھا۔

۶؎ آپ نے خود تین لپ بھر کر نہ دیئے تاکہ اصل اور نائب کے لپ میں فرق رہے۔خیال رہے کہ آپ نے حضرت جابر سے اس وعدہ پر گواہی نہیں مانگی نہ قسم لی کیونکہ معاملات میں گواہی منکر کے مقابل ہوتی ہے یہاں کوئی منکر تھا نہیں اور حضرات صحابہ ثقہ عادل ہیں ان

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن