30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4873 -[62] وَعَن ابنِ عبَّاسٍ أَنَّ رَجُلَيْنِ صَلَّيَا صَلَاةَ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ وَكَانَا صَائِمَيْنِ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ: «أَعِيدَا وُضُوءَكُمَا وَصَلَاتَكُمَا وامْضِيا فِي صومكما واقضيا يَوْمًا آخَرَ» . قَالَا: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «اغتبتم فلَانا» |
روایت ہے ابن عباس سے کہ دو شخصوں نے نماز ظہر یا عصر پڑھی اور وہ دونوں تھے روزہ دار ۱؎ پھر جب نبی صلی الله علیہ وسلم نے نماز پوری فرمائی تو فرمایا کہ اپنے وضو اپنی نمازیں لوٹاؤ اور اپنے روزوں میں گزر جاؤ (پورےکرلو)اور دوسرے دن ان کی قضا کرو ۲؎ وہ بولے یارسول الله کیوں فرمایا تم نے فلاں کی غیبت کی۔ |
۱؎ یعنی یہ دونوں روزہ داربھی تھے مدینہ منورہ کی سرزمین میں بھی مسجد نبوی شریف میں بھی اور حضور صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے انہوں نے نماز بھی پڑھی اتنی خوبیوں کے ساتھ انہوں نے کسی مسلمان کی غیبت بھی کرلی۔
۲؎ قرآن کریم نے غیبت کو مردہ بھائی کا گوشت کھانا قرار دیا ہے"اَنۡ یَّاۡکُلَ لَحْمَ اَخِیۡہِ مَیۡتًا"۔اور ظاہر ہے گوشت کھانے خون پینے سے روزہ بھی ٹوٹ جاتا ہے نمازبھی۔خلاصہ یہ ہے کہ گناہ نیکیوں کا کمال دور کر دیتے ہیں جیسے نیکیاں اصل گناہوں کا زوال کردیتی ہیں،نیز غیبت کی وجہ سے غیبت کرنے والے کی نیکیاں مغتاب کو دے دی جاتی ہیں اس کا روزہ نماز مغتاب کو دے دیا گیا یہ بغیر روزہ نماز رہ گیا لہذا اسے دوبار ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔سیدنا عبدالله فرماتے ہیں کہ غیبت سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے نماز پڑھی ہوئی بے کار ہوجاتی ہے ان کی دلیل یہ ہی حدیث ہے۔(مرقات)باقی حضرات فرماتے ہیں کہ اس سے روزہ نماز کا کمال ٹوٹ جاتا ہے بہرحال یہ حکم عالی تنبیہ فرمانے کے لیے ہے۔
|
4874 -[63] ، 4875 [64] وَعَن أبي سعيدٍ وجابرٍ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْغِيبَةُ أَشَدُّ مِنَ الزِّنَا» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ الْغِيبَةُ أَشَدُّ مِنَ الزِّنَا؟ قَالَ: «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَزْنِي فَيَتُوبُ فَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِ»-وَفِي رِوَايَةٍ: «فَيَتُوبُ فَيَغْفِرُ اللَّهُ لَهُ وَإِنَّ صَاحِبَ الْغِيبَةِ لَا يُغْفَرُ لَهُ حَتَّى يغفِرَها لَهُ صَاحبه» |
روایت ہے ابوسعید و جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ غیبت زنا سے زیادہ سخت ہے ۱؎ لوگوں نے عرض کیا یارسول الله غیبت زنا سے سخت کیسے ہے فرمایا کہ کوئی شخص زنا کرتا ہے تو توبہ کرلیتا ہے الله اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ وہ توبہ کرتا ہے تو الله اسے بخش دیتا ہے اور غیبت والے کی بخشش نہیں ہوتی حتی کہ اس کا صاحب وہ معاف کرے ۲؎ |
۱؎ یعنی غیبت ہے تو گناہ صغیرہ اور زنا ہے گناہ کبیرہ مگر شدت اور نتیجہ میں غیبت زنا سے بدتر ہے،یہ نرمی کی وجہ آگے بیان ہورہی ہے۔
۲؎ خلاصہ یہ ہے کہ اگر چہ زنا گناہ ہے اس کی شرعی سزا بھی بہت سخت ہے مگر ہے حق الله جو توبہ سے معاف ہوسکتا ہے، غیبت حق العبد ہے کہ توبہ سے معاف نہیں ہوسکتا جب تک کہ صاحبِ حق معاف نہ کرے، اگر وہ مرگیا تو اس کی معافی کی کوئی صورت ہی نہیں۔حق الله کی پہچان یہ ہے کہ وہ بندے کے معاف کرنے سے معاف نہ ہو،حق العبد کی پہچان یہ ہے کہ بندے کے معاف کرنے سے معاف ہوجاوے۔زنا حق اللہ،قتل حق العبد اس لیے قتل کا قصاص ولی مقتول کے معاف کرنے سے معاف ہوجاتا ہے،زنا اگر زانی مزنیہ کے سارے عزیز معاف کردیں اس کی سزا معاف نہیں ہوتی۔
|
4876 -[65] وَفِي رِوَايَةِ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «صَاحِبُ الزِّنَا يَتُوبُ وَصَاحِبُ الْغِيبَةِ لَيْسَ لَهُ تَوْبَةٌ» . رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» |
اور حضرت انس کی روایت ہے کہ فرمایا زنا والا توبہ کرسکتا ہے اور غیبت والے کی توبہ نہیں ۱؎ ان تینوں حدیثوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع