30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ یہ غلام آزاد کرنا اس غلطی کے کفارہ کے لیے تھا جو بلا شعور آپ سے سرزد ہوگئی،یہ ہے انتہائی تقویٰ بھلائیاں برائیوں کو مٹاتی ہیں۔
۴؎ چنانچہ اس کے بعد آپ نے کبھی کسی کو برا بھلا نہ کہا اپنی فطرت کو نبوت کے سانچہ میں ڈھال لیا۔
|
4869 -[58] وَعَنْ أَسْلَمَ قَالَ: إِنَّ عُمَرَ دَخَلَ يَوْمًا على أبي بكر الصِّدّيق رَضِي الله عَنْهُم وَهُوَ يَجْبِذُ لِسَانَهُ. فَقَالَ عُمَرُ: مَهْ غَفَرَ الله لَك. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ هَذَا أَوْرَدَنِي الْمَوَارِدَ. رَوَاهُ مَالك |
روایت ہے حضرت اسلم سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ایک دن جناب عمر حضرت ابوبکر صدیق کے پاس آئے وہ اپنی زبان کھینچ رہے تھے۲؎ تو حضرت عمر نے ان سے عرض کیا ٹھہریئے الله آپ کو بخشے تو ان سے جناب ابوبکر نے فرمایا کہ اس نے مجھے ہلاکت کی جگہوں میں لا ڈالا ۳؎(مالک) |
۱؎ آپ تابعی ہیں،آپ کی کنیت ابو خالد ہے،حبشی تھے،حضرت عمر رضی الله عنہ کے آزادکردہ غلام تھے جنہیں حضرت فاروق نے مکہ معظمہ میں ۱۱ھ میں خریدا،آپ کی عمر ایک سو چودہ سال ہوئی،مروان کے زمانہ میں وفات پائی، ۸۰ اسّی ہجری میں۔
۲؎ اپنی زبان شریف کو کھینچ کر مروڑ رہے تھے یا اسے باہر نکال ڈالنے کی کوشش فرمارہے تھے گویا اپنی زبان کو سزا دے رہے تھے۔
۳؎ یہ انتہائی خوفِ خدا کی دلیل ہے حضرت صدیق کی زبان صدق کے سواء کیا بولے گی مگر پھربھی اپنے کو قصور وار کہتے ہیں جیسے حضرات انبیاءکرام نے اپنے کو ظالم خاسر وغیرہ فرمایا،حضور صلی الله علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے رب انی ظلمت نفسی ظلما کثیرا۔شعر
زاہداں از گناہ توبہ کنند عارفاں از اطاعت استغفار
|
4870 -[59] وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"اضْمَنُوا لِي سِتًّا مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَضْمَنُ لَكُمُ الْجَنَّةَ: اصْدُقُوا إِذَا حَدَّثْتُمْ وَأَوْفُوا إِذَا وَعَدْتُمْ وأدوا إِذا ائتمتنم واحفظوا فروجكم وغضوا أبصاركم وَكفوا أَيْدِيكُم " |
روایت ہے حضرت عبادہ بن صامت سے نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ اپنے نفس کی طرف سے میرے لیے چھ چیزوں کے ضامن بن جاؤ میں تمہارے لیے جنت کا ضامن ہوں ۱؎ جب بات کرو سچ کہو،جب وعدہ کرو تو پورا کرو۲؎ جب امین بنائے جاؤ تو اداکرو۳؎ اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو۴؎ اپنی نگاہیں نیچے رکھو ۵؎ اپنے ہاتھ روکو ۶؎ |
۱؎ یعنی تم چھ عادتیں ڈال لو ان کے خلاف نہ کرو تو میں تمہارے جنتی ہونے کا ضامن ہوتا ہوں تم ضرور جنتی ہو گے بلکہ وہاں کا اعلیٰ درجہ پاؤ گے۔
۲؎ وعدہ سے مراد جائز وعدہ ہے وعدہ کا پورا کرنا ضروری ہے مسلمان سے وعدہ کرو یا کافر سے عزیز سے وعدہ کرو یا غیر سے استاذ،شیخ،نبی،الله تعالٰی سے کیے ہوئے تمام وعدے پورے کرو،ہاں اگر کسی حرام کام کا وعدہ کیا ہے اسے ہرگز پورا نہ کرے حتی کہ حرام کام کی نذر پوری کرنا حرام ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع