دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

۲؎  یعنی چونکہ مجھے اس وقت کوئی نیک صالح ساتھی نہ ملا اس لیے تنہائی کو غنیمت سمجھ کر اکیلا بیٹھ گیا،غالبًا کسی اجنبی جگہ میں ہوں گے مسجد سے مراد مسجد نبوی شریف نہیں کوئی اور مسجد مراد ہے ورنہ اس زمانہ میں مدینہ منورہ میں نیک ساتھی کی کیا کمی تھی خیرالقرون تھا۔

۳؎  یعنی تنہائی میں انسان خاموش بیٹھے گا اور خاموشی اچھی ہے بری بات سے،برے یار کے پاس بیٹھ کر بری باتیں کرنا پڑتی ہیں اس لیے تنہائی بہتر ہے۔

4865 -[54]

وَعَن عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَقَامُ الرَّجُلِ بِالصَّمْتِ أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ سِتِّينَ سنة»

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان کا خاموشی سے ثابت رہنا ۱؎ ساٹھ برس کی عبادت سے افضل ہے ۲؎

۱؎ یہاں یا تو ساعۃً پوشیدہ ہے یا زمانًا،بعض روایات میں ہے فی الصف فی سبیل الله یعنی ایک ساعۃ یا کچھ دیر  یا جہاد کی صف میں خاموش رہنا دنیاوی باتیں نہ کرنا۔

۲؎  یعنی اگر کوئی شخص ساٹھ سال عبادت کرے مگر زیادہ باتیں بھی کرے اچھی بری بات میں تمیز نہ کرے اس سے یہ بہتر ہے کہ تھوڑی دیر خاموش رہے کیونکہ خاموشی میں فکر بھی ہوئی،اصلاح نفس بھی،معارف و حقائق میں استغراق بھی،ذکر خفی کے سمندر میں غوطہ لگانا بھی،مراقبہ بھی یہ نعمتیں اگرچہ ایک ساعت کی ہوں ساٹھ سال کی خشک عبادت سے افضل ہیں اس لیے حضرات صوفیاء فرماتے ہیں کہ ایک ساعت کی فکر ہزار سال کے خاص ذکر سے افضل ہے،خیال رہے کہ ان جیسے مقامات پر ساٹھ سال یا ستر سال سے مراد دراز زمانہ ہوتا ہے نہ کہ صرف یہ مدت۔

4866 -[55]

وَعَن أبي ذرٍّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ إِلَى أَنْ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي قَالَ: «أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ فَإِنَّهُ أَزْيَنُ لِأَمْرِكَ كُلِّهِ» قُلْتُ: زِدْنِي قَالَ: «عَلَيْكَ بِتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّهُ ذِكْرٌ لَكَ فِي السَّمَاءِ وَنُورٌ لَكَ فِي الْأَرْضِ» . قُلْتُ: زِدْنِي. قَالَ: «عَلَيْكَ بِطُولِ الصَّمْتِ فَإِنَّهُ مَطْرَدَةٌ لِلشَّيْطَانِ وَعَوْنٌ لَكَ عَلَى أَمْرِ دِينِكَ» قُلْتُ: زِدْنِي. قَالَ: «إِيَّاكَ والضحك فَإِنَّهُ يُمِيتُ الْقَلْبَ وَيَذْهَبُ بِنُورِ الْوَجْهِ» قُلْتُ: زِدْنِي. قَالَ: قُلِ الْحَقَّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا ". قُلْتُ: زِدْنِي. قَالَ: «لَا تَخَفْ فِي اللَّهِ لومة لائم» . قلت: زِدْنِي. لِيَحْجُزْكَ عَنِ النَّاسِ مَا تَعْلَمُ مِنْ نَفْسِكَ "

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا دراز حدیث بیان کی ۱؎  یہاں تک کہ فرمایا میں نے عرض کیا یارسول الله مجھے وصیت کیجئے۲؎  فرمایا میں تم کو الله سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں کہ یہ تمہارے تمام کاموں کی زینت ہے۳؎  میں نے عرض کیا کہ کچھ زیادہ کیجئے فرمایا قرآن کی تلاوت اور الله  کا ذکر اختیار کرو ۴؎ کہ یہ تمہارے چرچے کا باعث ہے آسمان میں اور تمہارے لیے نور ہے زمین میں ۵؎ میں نے عرض کیا کچھ زیادہ فرمایئے فرمایا تم دراز خاموشی اختیار کرو ۶؎ کہ یہ شیطان کو بھگانے والا ہے اور تمہارے دینی کام پر تمہارا مدد گار ہے ۷؎  میں نے عرض کیا کہ مجھے زیادہ دیجئے فرمایا زیادہ ہنسنے سے بچو کہ یہ دل کو مردہ کر دیتا ہے اور چہرے کا نور زائل کردیتا ہے ۸؎  میں نے عرض کیا  زیادہ کیجئے فرمایا حق بات کہو اگرچہ کڑوی ہو ۹؎  میں نے عرض کیا اور زیادہ دیجئے فرمایا الله کی راہ میں ملامت والے کی ملامت سے نہ ڈرو ۱۰؎ میں نے عرض کیا زیادہ کیجئے فرمایا کہ تم کو لوگوں سے وہ بات منع کرے جو تم اپنے میں جانتے ہو ۱۱؎

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن