30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ عرش الٰہی کا ہلنا رب تعالٰی کے غضب کے اظہار کے لیے ہے کہ یہ اس کی تعریف کررہا ہے جس سے رب تعالٰی ناراض ہے اگر اسے حلال جان کر اچھا کہا ہے تو کافر ہے۔
|
4860 -[49] وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُطْبَعُ الْمُؤْمِنُ عَلَى الْخِلَالِ كلِّها إِلا الخيانةَ وَالْكذب» . رَوَاهُ أَحْمد 4861 -[50]وَالْبَيْهَقِيّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقاص |
روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مؤمن تمام خصلتوں پر پیدا کیا جاسکتا ہے سواء خیانت اور جھوٹ کے ۱؎ (احمد) (احمد،بیہقی شعب الایمان بروایت سعد ابن ابی وقاص) |
۱؎ خلال سے مراد بری عادتیں ہیں اس فرمان عالی سے یا نفی مقصود ہے یا نہیں،پہلی صورت میں معنی یہ ہیں کہ جھوٹ اور خیانت ایسی بری عادتیں ہیں کہ کسی مؤمن میں یہ دونوں چیزیں اصلی پیدائشی نہیں ہوسکتیں،اگر کوئی مؤمن جھوٹا یا خائن ہوگا تو عارضی طورپر ہوگا کہ جھوٹوں خائنوں کی صحبت میں رہ کر یہ جھوٹا یا خائن بن جاوے گا اس کے علاوہ اور عیوب مؤمن میں پیدائشی ہوسکتے ہیں،دوسری صورت میں یہ معنی ہیں کہ مؤمن کو چاہیے کہ جھوٹا و خائن عادۃً نہ بنے ان عیبوں کی عادت نہ ڈالے یہ دونوں اس کی شان ایمان کے خلاف ہیں،رب فرماتاہے:"اِنَّمَا یَفْتَرِی الْکَذِبَ الَّذِیۡنَ لَا یُؤْمِنُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللہِ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰذِبُوۡنَ"۔(مرقات،لمعات)
|
4862 -[51] وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ سَلِيمٍ أَنَّهُ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيَكُونُ الْمُؤْمِنُ جَبَانًا؟قَالَ:«نعم» . فَقيل: أَيَكُونُ الْمُؤْمِنُ بَخِيلًا؟ قَالَ:«نَعَمْ» . فَقِيلَ: أَيَكُونُ الْمُؤْمِنُ كَذَّابًا؟ قَالَ:«لَا».رَوَاهُ مَالِكٌ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شعب الْإِيمَان» مُرْسلا |
روایت ہے حضرت صفوان ابن سلیم سے ۱؎ کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ کیا مؤمن بزدل ہو سکتا ہے فرمایا ہاں پھر عرض کیا گیا مؤمن کنجوس ہوسکتا ہے فرما ہاں ۲؎ پھر عرض کیا گیا مؤمن جھوٹا ہوسکتا ہے فرمایا نہیں ۳؎(مالک، بیہقی شعب الایمان ارسالًا)۴؎ |
۱؎ آپ تابعین میں سے ہیں،نہایت متقی پرہیزگار تھے،چالیس سال زمین سے پیٹھ نہ لگائی بیٹھے بیٹھے جان نکلی سجدے کرتے کرتے پیشانی میں غار ہوگیا، ۱۰۲ ایک سو دو ہجری میں وفات ہوئی۔(اشعہ و مرقات)لہذا یہ حدیث مرسل ہے کہ صحابی کا ذکر اس میں نہیں ہے۔
۲؎ یعنی مسلمان میں بزدلی یا کنجوسی فطری طور پر ہوسکتی ہے کہ یہ عیوب ایمان کے خلاف نہیں لہذا مؤمن میں ہوسکتی ہیں۔
۳؎ کذاب فرماکر اس طرف اشارہ ہے کہ مؤمن گاہے بہ گاہے جھوٹ بول لے تو ہوسکتا ہے مگر بڑا جھوٹا ہمیشہ کا جھوٹا ہونا جھوٹ کا عادی ہونا مؤمن ہونے کی شان کے خلاف ہے،یہاں بھی وہ ہی مراد جو ابھی پہلی حدیث میں عرض کیا گیا یا مؤمن سے مراد کامل الایمان لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بہت مسلمان جھوٹے ہوتے ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع