30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ یعنی اپنی موت سے پہلے یہ گناہ خود کرے گا اور اس میں بدنام ہوگا مظلوم کا بدلہ ظالم سے خود رب تعالی لیتا ہے۔
۴؎ یہ تفسیر حضرت امام احمد ابن حنبل کی ہے کہ یہاں گناہ سے مراد وہ گناہ ہے جس سے گنہگار توبہ کرچکا ہے ایسے گناہ کا ذکر بھی نہیں چاہیے جس گناہ میں بندہ گرفتار ہے،اس سے عار دلانا تاکہ توبہ کرے یہ تو تبلیغ ہے اس پر ثواب ہے۔
۵؎ یعنی خالد ابن معدان نے معاذ ابن جبل کا زمانہ نہ پایا کیونکہ حضرت معاذ کی وفات ۱۸ اٹھارہ میں ہوئی اور خالد کی پیدائش ۱۸ھ کے بعد ہوئی۔خیال رہے کہ اتصال کے لیے راوی کا اپنے شیخ سے ملاقات کرنا ضروری نہیں صرف ہم زمانہ ہونا کافی ہے،تمام محدثین کا اس پر اتفاق ہے ہاں امام بخاری کے ہاں ملاقات ضروری ہے۔(مرقات)
|
4856 -[45] وَعَن وَاثِلَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «لَا تظهر الشماتة لأخيك فِي وَيَبْتَلِيَكَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت واثلہ سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے بھائی پر لعن طعن ظاہر نہ کرو ۲؎ ورنہ الله اس پر رحم کردے گا اور تجھے مبتلا کردے گا ۳؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن ہے غریب ہے۔ |
۱؎ واثلہ ابن اسقع لیثی صحابی ہیں،جب حضور انور غزوہ تبوک کے لیے جارہے تھے تو آپ ایمان لائے،تین سال حضور کی خدمت میں رہے،اصحاب صفہ سے تھے ایک سو برس عمر پائی بیت المقدس میں وفات ہوئی۔ (مرقات)آپ مشہور صحابی ہیں۔
۲؎ یعنی کسی مسلمان کو دینی یا دنیاوی آفت میں مبتلا دیکھ کر اس پر خوشی میں طعن نہ کرو بعض دفعہ خوشی میں بھی کسی پر لاحول پڑھی جاتی ہے۔شیخ سعدی فرماتے ہیں۔شعر
مگو اندوہ خویش پیش کساں کہ لاحول گویند شادی کناں
اگر ملامت کرنا اس کی فہمائش کے لیے ہو تب جائز ہے جب کہ اس طریقہ سے اس کی اصلاح ہوسکے غرضکہ ملامت کی مختلف صورتیں ہیں۔
۳؎ یہ ہے مسلمان کی آفت پر خوشی منانے کا انجام کہ خوشی منانے والا خودگرفتار ہوجاتا ہے بارہا کا آزمودہ ہے ہمیشہ خدا سے خوف کرنا چاہیے۔
|
4857 -[46] وَعَن عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أُحِبُّ أَنِّي حَكَيْتُ أَحَدًا وَأَنَّ لي كَذَا وَكَذَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَصَححهُ |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا نبی صلی الله علیہ وسلم نے کہ میں پسند نہیں کرتا کہ کسی کی نقل کروں اگرچہ مجھے اتنا اتنا ملے ۱؎(ترمذی)اور اس کو صحیح فرمایا۔ |
۱؎ یعنی اگر مجھے کوئی دنیا کی بڑی سے بڑی دولت نعمت دے اس کے عوض میں کہ میں کسی مسلمان کی کوئی حرکت بطورِ غیبت نقل کروں تو میں وہ دولت قبول نہ کروں گا اور اس کی نقل نہ اتاروں گا۔یہاں حضور انور نے اپنا عمل شریف بیان فرماکر تا قیامت مسلمانوں کو تعلیم دی کہ تم کو کوئی کتنی ہی دولت دے کر کسی مسلمان کی قولی یا عملی غیبت کرائے اس کی نقل اتروائے تو ہرگز قبول نہ کرو،یہاں بھی حکایت سے مراد بطور غیبت ممنوع نقل کرنا ہے۔
|
4858 -[47] وَعَن جُنْدُبٍ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ ثُمَّ عَقَلَهَا ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا سَلَّمَ أَتَى رَاحِلَتَهُ فَأَطْلَقَهَا ثُمَّ رَكِبَ ثُمَّ نَادَى: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تُشْرِكْ فِي رَحْمَتِنَا أَحَدًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَقُولُونَ هُوَ أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ؟ أَلَمْ تَسْمَعُوا إِلَى مَا قَالَ؟» قَالُوا: بَلَى؟ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ: «كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا» فِي «بَاب الِاعْتِصَام» فِي الْفَصْل الأول |
روایت ہے حضرت جندب سے فرماتے ہیں کہ ایک بدوی آیا اس نے اپنا اونٹ بٹھادیا ۱؎ پھر اسے باندھ دیا پھر مسجد میں آیا تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے نما ز پڑھی پھر جب سلام پھیرا تو اپنی سواری کے پاس گیا اسے کھولا اس پر سوار ہوا پھر پکار الٰہی مجھ پر اور محمد پر رحم فرما اور ہماری رحمت میں کسی اور کو شریک نہ کر ۲؎ تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کیا کہتے ہو یہ زیادہ بے وقوف ہے یا اس کا اونٹ۳؎ کہ کیا تم نے نہ سنا جو اس نے کہا لوگ بولے ہاں۴؎(ابوداؤ د)اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کفی بالمرء کذبا ہم نے باب الاعتصام کی پہلی فصل میں ذکر کردی۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع