دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

۳؎  یعنی لعنت اس حیران پریشان چیزکی طرح دوڑتی گھومتی ہے جسے اپنا ٹھکانہ معلوم نہ ہو اور تلاش ٹھکانہ کے لیے حیران پریشان گھومے یا بطور تمثیل ارشاد ہوا ہے یا واقعہ ایسے ہی ہوتا ہے کیونکہ ہمارے تمام قول و فعل ایک شکل و حال رکھتے ہیں۔

۴؎  بہرحال لعنت یا تو ملعون پر پڑتی ہے اگر وہ اسکا اہل ہو ورنہ خود لاعن پر لہذا لعنت کرنا چاہیے ہی نہیں۔ سوچو کہ ان کا حال کیا ہوگا جو دن رات حضرات صحابہ پر تبرا اور لعن طعن کرتے رہتے ہیں،اسی طرح جو لوگ جانوروں کو،دھوپ کو،ہوا کو لعنت کر دیتے ہیں،بیماریوں کو کوستے پیٹتے ہیں اس سب کا وبال خود ان پر ہی پڑتا ہے۔

4851 -[40]

وَعَن ابنِ عبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا نَازَعَتْهُ الرِّيحُ رِدَاءَهُ فَلَعَنَهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَلْعَنْهَا فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ وَأَنَّهُ مَنْ لَعَنَ شَيْئًا لَيْسَ لَهُ بِأَهْلٍ رَجَعَتِ اللَّعْنَةُ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ ایک شخص کی چادر ہوا نے اس پر سے اڑادی اس نے ہوا پر لعنت کی ۱؎  تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر لعنت نہ کرو کہ یہ تو زیر فرمان ہے ۲؎  اور یقینًا جو کسی ایسی چیز پر لعنت کرے جو اس کی اہل نہ ہو تو لعنت اس پر ہی لوٹتی ہے ۳؎(ترمذی،ابوداؤ د)

۱؎ جیسے آج بعض لوگ بیماریوں وغیرہ پر لعنت کردیتے ہیں یہ سخت برا ہے۔

۲؎ ہوا کا نرم و سخت چلنا تیری چادر کا اڑا دینا سب کچھ الله تعالٰی کے حکم سے ہے ان میں اس کا کوئی قصور نہیں پھر اس پر لعنت کیسی۔

۳؎ یعنی لعنت کرنے کا گناہ اس پر پڑے گایا خود لعنت پھٹکار رحمت سے دوری خود اس کو ملے گی۔معلوم ہوا کہ لعنت اور رحمت اپنے مستحق کو جانتی پہچانتی ہیں ان کے ٹھکانوں کو بھی جانتی ہیں حدیث اپنے ظاہر پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔

4852 -[41]

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِي عَنْ أَحَدٍ شَيْئًا فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ وَأَنَا سَلِيمُ الصَّدْرِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مجھے کوئی صحابی کسی کی طرف سے کوئی بات نہ پہنچائے ۱؎ میں چاہتا ہوں کہ تمہارے پاس صاف سینہ آیا کروں ۲؎ (ابوداؤد)

۱؎ یعنی اگر کوئی مجھے میرے پیچھے برا کہے تو تم اس کی بات مجھ سے نہ کہو۔خیال رہے کہ یہاں حضور صلی الله علیہ وسلم نے اپنا نام لیا مگر ہم کو قانون بتایا کہ کوئی کسی کی غیبت اس تک نہ پہنچائے ورنہ حضور صلی الله علیہ وسلم تو دلوں کی گہرائیوں کی بات گھروں کے اندرونی حالات سے خبردار ہیں ان سے کوئی چیز مخفی نہیں،نیز کوئی صحابی حضور انور کی شان میں گستاخی نہیں کرتے تھے نہ سامنے نہ پیچھے حضور کی گستاخی کفر ہے۔رہے منافقین حضور انور ان سے ناراض تھے خواہ کوئی انکی بات پہونچاتا یا نہ پہونچاتا ۔بہرحال حدیث بالکل واضح ہے اس پر نہ وہابی اعتراض کرسکتے ہیں نہ شیعہ۔

۲؎  کہ کسی کی عداوت کسی سے نفرت دل میں نہ ہوا کرے یہ بھی ہم لوگوں کے لیے بیان قانون ہے کہ اپنے سینے صاف رکھو تاکہ ان میں مدینہ کے انوار دیکھو ورنہ حضور صلی الله علیہ وسلم کا سینہ رحمت نور کرامت کا گنجینہ ہے وہاں کدورت کی پہنچ نہیں۔

4853 -[42]

وَعَن عَائِشَة قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَسبك صَفِيَّةَ كَذَا وَكَذَا - تَعْنِي قَصِيرَةً - فَقَالَ: «لَقَدْ قُلْتِ كَلِمَةً لَوْ مُزِجَ بِهَا الْبَحْرُ لَمَزَجَتْهُ» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت عائشہ  رضی اللہ عنھا سے فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ کو صفیہ رضی اللہ عنھا سے یہ ہے کہ وہ ایسی ایسی ہیں یعنی پستہ قد ۱؎ تو فرمایا تم نے ایسی بات کہی ہے کہ اگر اس کو دریا میں ملادیا جائے تو اسے رنگین کردے ۲؎(احمد،ترمذی،ابوداؤ د)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن