30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4848 -[37] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَكُونُ الْمُؤْمِنُ لعانا».وَفِي رِوَايَة: «لاينبغي لِلْمُؤمنِ أَن يكون لعانا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مسلمان لعنت کرنے والا نہیں ہوتا اور ایک روایت میں ہے کہ مؤمن کو لائق نہیں کہ بہت لعن طعن کرنے والا ہو ۱؎ (ترمذی) |
۱؎ یعنی کامل مسلمان لعن طعن کرنے کا عادی نہیں ہوتا کہ بات بات پر لعنت کرتا رہے اتفاقیہ کبھی منہ سے نکل جانا اس کے خلاف نہیں۔(مرقات)
|
4849 -[38] وَعَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَلَاعَنُوا بِلَعْنَةِ اللَّهِ وَلَا بِغَضَبِ اللَّهِ وَلَا بِجَهَنَّمَ».وَفِي رِوَايَةٍ «وَلَا بِالنَّارِ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے کہ نہ تو الله کی لعنت سے لعنت کرو ۱؎ اور نہ الله کے غضب سے نہ دوزخ سے اور ایک روایت میں ہے کہ نہ آگ سے ۲؎(ترمذی،ابوداؤ د) |
۱؎ یعنی یہ نہ کہو کہ تجھ پر خدا کی لعنت الله کی پھٹکار،نہ یہ کہو کہ تجھ پر الله کا غضب الله کا قہر وغیرہ،لعنت وغضب کی بددعا نہ کرو نہ یہ کہو کہ تو جہنم میں جائے یا تیرا ٹھکانہ دوز خ ہو یا تجھے خدا دوزخ میں یا آگ میں ڈالے۔
۲؎ خیال رہے کہ یہ لعنت و پھٹکار اور یہ بد دعائیں کسی معین مسلمان کو منع ہیں غیرمعین کو اس کے وصف سے لعنت کرنا بالکل جائز ہے جیسے"لَعْنَتَ اللہِ عَلَی الْکٰذِبِیۡنَ"رہے مشرکین و کفار اگر ان کا کفر پر مرنا یقین سے معلوم ہو تو انہیں نام لے کر لعنت کرنا جائز ہے ورنہ نہیں۔بہرحال لعنت بد دعائیں کوئی خاص عبادت نہیں کہ اس کی عادت نہ ڈالے۔
|
4850 -[39] وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا لَعَنَ شَيْئًا صَعِدَتِ اللَّعْنَةُ إِلَى السَّمَاءِ فَتُغْلَقُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ دُونَهَا ثُمَّ تَهْبِطُ إِلَى الْأَرْضِ فَتُغْلَقُ أَبْوَابُهَا دُونَهَا ثُمَّ تَأْخُذُ يَمِينًا وَشِمَالًا فَإِذَا لَمْ تَجِدْ مَسَاغًا رَجَعَتْ إِلَى الَّذِي لُعِنَ فَإِنْ كَانَت لِذَلِكَ أَهْلًا وَإِلَّا رَجَعَتْ إِلَى قَائِلِهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ کوئی بندہ جب کسی چیز پر لعنت کرتا ہے تو لعنت آسمان کی طرف چڑھ جاتی ہے ۱؎ تو اس کے سامنے آسمان کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں پھر وہ زمین کی طرف لوٹتی ہے اور اس کے سامنے زمین کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں ۲؎ پھر وہ داہنے بائیں پھرتی ہے۳؎ پھر جب جگہ نہیں پاتی تو اس کی طرف لوٹتی ہے جس پر لعنت کی گئی تو اگر وہ اس کا اہل ہو تو فبہا ورنہ کہنے والے کی طرف لوٹ جاتی ہے۴؎(ابوداؤ د) |
۱؎ جیسے غبار دھواں وغیرہ بذاتِ خود اوپر چڑھتے ہیں ایسے ہی لعنت و پھٹکار بھی اوپر چڑھتی ہے مگر اسے آسمان میں داخلہ کی اجازت نہیں ہوتی کہ وہاں اس کا مستحق کوئی نہیں۔
۲؎ لہذا وہ لعنت زمین میں نہیں دھنس سکتی کہ وہاں بھی اس کا مستحق کوئی نہیں۔خیال رہے کہ ابلیس اور اس کی ذریت نہ تو آسمان میں رہتے ہیں نہ زمین کے اندر بلکہ اوپر اوپر ہی مارے مارے پھرتے ہیں لہذا اس فرمان پر کوئی غبار نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع