30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ چونکہ راوی کو یہ یاد نہ رہا کہ حضرت ابو سعید خدری نے کن الفاظ سے حدیث کو مرفوع کیا سمعت النبی صلی الله علیہ وسلم کہا یا خالی رسول الله صلی الله علیہ وسلم یا عن النبی صلی الله علیہ وسلم اس لیے رفعہ کہہ دیا۔ (مرقات)
۲؎ تکفر بنا ہے کفر سے بمعنی ذلت و عاجزی و خواری،کہا جاتا ہے کفرا لیھودی یعنی یہودی ذلیل ہوگیا اپنے صاحب کے آگے جھک گیا۔
۳؎ یعنی نفع نقصان راحت و آرام تکالیف و آلام میں ہم تیرے ساتھ وابستہ ہیں اگر تو خراب ہوگی ہماری شامت آجاوے گی تو درست ہوگی ہماری عزت ہوگی۔خیال رہے کہ زبان دل کی ترجمان ہے اس کی اچھائی برائی دل کی اچھائی برائی کا پتہ دیتی ہے۔ عرب کہتے ہیں :لسان الانسان الہ البیان للکفر والایمان لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ دل کے درست ہوجانے سے تمام جسم درست ہوجاتا ہے کہ دل و زبان کا حال یکساں ہے،بارہا منافقین کی زبان ان کے دل کا نشان دے دیتی تھی،دل دیگ ہے زبان اس کا چمچہ ہے۔
|
4839 -[28] وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ» . رَوَاهُ مَالك وَأحمد 4840 -[29] وَرَوَاهُ ابْن مَاجَه عَن أبي هُرَيْرَة 4841 -[30] وَالتِّرْمِذِيّ وَالْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان» عَنْهُمَا |
روایت ہے حضرت علی ابن حسین سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ انسان کے اسلام کی خوبیوں میں سے ایک چھوڑ دینا ہے اس کا جو اسے نفع نہ دے ۲؎ (مالک،احمد) اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ سے اور ترمذی و بیہقی نے شعب الایمان میں ان دونوں سے روایت کی۔ |
۱؎ علی ابن حسین ابن علی یعنی امام زین العابدین آپ کے فضائل و مناقب بارہا ہم اسی کتاب میں عرض کرچکے ہیں۔
۲؎ یعنی کامل مسلمان وہ ہے جو ایسے کلام ایسے کام ایسی حرکات و سکنات سے بچے جو اس کے لیے دین یا دنیا میں مفید نہ ہوں،وہ کام یا کلام کرے جو اسے یا دنیا میں مفید ہو یا آخرت میں۔سبحان الله! ان دو کلموں میں دونوں جہان کی بھلائی وابستہ ہے۔ایک بزرگ کسی محل پرگزرے مالک سے پوچھا کہ تو نے یہ مکان کب بنایا ہے فورًا بولے کہ میں نے یہ کلام بے فائدہ کیا اس کے کفارہ میں ایک سال روزے رکھے۔اپنے نفس کا حساب کرو تاکہ قیامت کا حساب آسان ہو۔(مرقات)
|
4842 -[31] وَعَن أنسٍ قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنَ الصَّحَابَةِ. فَقَالَ رَجُلٌ: أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أوَ لَا تَدْرِي فَلَعَلَّهُ تَكَلَّمَ فِيمَا لَا يَعْنِيهِ أَوْ بخل بِمَا لَا ينقصهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ ایک صحابی نے وفات پائی تو کسی نے کہا کہ مبارک ہے جنت کی ۱؎ تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ شاید غیر مفید خبر میں گفتگو کی یا نہ گھٹنے والی چیز میں بخل کیا ہو ۲؎(ترمذی) |
۱؎ یعنی میری طرف سے جنت کی مبارک باد قبول کر کہ تو مؤمن متقی صحابی ہو کر دنیا سے گیا اس سے بڑھ کر کیا درجہ ہوسکتا ہے،یہ خطاب اس میت سے ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع