30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4836 -[25] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم:«من صَمَتَ نَجَا».رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي " شعب الْإِيمَان |
روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو خاموش رہا نجات پاگیا ۱؎(احمد،ترمذی،دارمی،بیہقی شعب الایمان) |
۱؎ اس فرمان عالی کے دو مطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ جو میری بات سے خاموش رہا وہ دنیا و دین کی آفات سے نجات پا گیا۔دوسرے یہ کہ جس نے خاموشی اختیار کی وہ دونوں جہاں کی بلاؤ ں سے محفوظ رہا۔امام غزالی فرماتے ہیں کہ کلام چارقسم کے ہیں: خالص مضر،خالص مفید،مضر بھی مفید بھی،نہ مضر نہ مفید۔خالص مضر سے ہمیشہ پرہیز ضروری ہے،خالص مفید کلام ضرور کرے،جو کلام مضر بھی ہو مفید بھی ا س کے بولنے میں احتیاط کرے۔بہتر ہے کہ نہ بولے اور چوتھی قسم کے کلام میں وقت ضائع کرنا ہے ان کلاموں میں امتیاز کرنا مشکل ہے لہذا خاموشی بہتر ہے۔(اشعہ)
|
4837 -[26] وَعَن عُقْبةَ بن عامرٍ قَالَ: لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: مَا النَّجَاةُ؟ فَقَالَ: «أَمْلِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے ملا تو میں نے عرض کیا کہ نجات کا ذریعہ کیا ہے ۲؎ فرمایا اپنی زبان کو قابو میں رکھو ۳؎ اور تم کو تمہارا گھر کافی رہے ۴؎ اور اپنی خطاؤ ں پر رو ۵؎(احمد،ترمذی) |
۱؎ آپ قبیلہ جہینہ سے ہیں،امیرمعاویہ کی طرف سے مصر کے حاکم رہے پھر معزول کردیئے گئے،مصر میں ہی میں آپ کی وفات ہوئی، ۵۸ھ میں۔(اکمال)
۲؎ یعنی ہم دین و دنیا کی مصیبتوں سے کیسے بچیں دنیا میں آفتیں تو گردوغبار کی طرح پھیلتی ہیں ان سے بچاؤ کی تدبیر کیا ہے۔
۳؎ املك الف کے کسرہ سے باب ضرب کا امر ہے ملك بمعنی قبضہ قابو ہے یعنی اپنی زبان کو قبضہ میں رکھو اس کی حفاظت کرو بری بات بولنے سے روکو۔
۴؎ یعنی بلا ضرورت گھر سے باہر نہ جاؤ لوگوں کے پاس بلاوجہ نہ جاؤ گھر سے نہ گھبراؤ اپنے گھر کی خلوت کو غنیمت جانو کہ اس میں صدہا آفتوں سے امان ہے۔بزرگ فرماتے ہیں کہ سکوت،لزوم بیوت اور قناعت بالقوت الی ان یموت امان کی چابی ہے یعنی خاموشی،گھر میں رہنا،رب کی عطا پر قناعت،موت تک اس پر قائم رہنا۔
۵؎ یعنی اپنے گزشتہ گناہوں پر نادم ہوکر رونا اختیار کرو دوسروں کی عیب جوئی کی بجائے اپنی عیب جوئی کرو۔
|
4838 -[27] وَعَن أبي سعيدٍ رَفَعَهُ قَالَ: " إِذَا أَصْبَحَ ابْنُ آدَمَ فَإِنَّ الْأَعْضَاءَ كُلَّهَا تُكَفِّرُ اللِّسَانَ فَتَقُولُ: اتَّقِ اللَّهَ فِينَا فَإنَّا نَحْنُ بِكَ فَإِنِ اسْتَقَمْتَ اسْتَقَمْنَا وَإِنِ اعْوَجَجْتَ اعوَججْنا ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابو سعید سے اسے مرفوع فرمایا ۱؎ کہ فرمایا جب انسان سویرا پاتا ہے تو سارے اعضاء زبان کی خوشامد کرتے ہیں۲؎ کہتے ہیں ہمارے بارے میں الله تعالٰی سے ڈر کہ ہم تیرے ساتھ ہیں تو اگرسیدھی رہے گی ہم سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوگی تو ہم ٹیڑھے ہوں گے ۳؎(ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع