30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4834 -[23] وَعَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جده قا ل: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْلٌ لِمَنْ يُحَدِّثُ فَيَكْذِبُ لِيُضْحِكَ بِهِ الْقَوْمَ وَيْلٌ لَهُ وَيْلٌ لَهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد والدارمي |
روایت ہے بہز بن حکیم سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے خرابی ہے اس کے لئے جو بات کرے تو جھوٹ بولے تاکہ اس سے قوم کو ہنسائے ۲؎ اس کے لئے خرابی ہے اس کے لئے خرابی ہے ۳؎(احمد،ترمذی، ابو داؤد،دارمی) |
۱؎ بہز ابن حکیم ابن معاویہ ابن حیدہ قشیری بصری تابعی ہیں،ثقہ ہیں،ان کے والد حکیم ابن معاویہ کی صحابیت میں اختلاف ہے، معاویہ ابن حیدہ صحابی ہیں مگر صاحب مشکوۃ نے اپنی کتاب اکمال میں ان کا ذکر نہ فرمایا۔ (مرقات)
۲؎ لوگوں کو ہنسانے کے لیے تو جھوٹ بولنا ہمیشہ ہی جرم بلکہ ڈبل جرم مگر لوگوں کو منانے کے لیے سچی بات کہنا اگر کبھی کبھی ہو تو جرم نہیں۔خوش طبعی اچھی چیز ہے مگر اس کا عادی بن جانا گناہ ہے،کسی پریشان یا مغموم کو ہنسا دینے کے لیے اچھی و سچی دل لگی کی بات کہہ دینا ثواب ہے،حضرت عمر رضی الله عنہ نے ایک بار حضور صلی الله علیہ وسلم کو ہنسا دینے کے لیے اپنا گھریلو واقعہ بیان فرمایا جب کہ حضور نے اپنی ازواج پاک سے ایلاء کیا تھا یہ سنت فاروقی ہے۔بہرحال ایسے جائز کاموں میں بھی اعتدال چاہیے ان کا عادی بن جانا اچھا نہیں۔امام غزالی فرماتے ہیں کہ خوش طبعی کرنا ہو تو حضور صلی الله علیہ وسلم کی سی خوش طبعی کرے جو بالکل حق ہوتی تھی۔(مرقات)
۳؎ ویل کے معنی ہیں خرابی،افسوس،دوزخ کے ایک طبقہ کا نام بھی ویل ہے۔یہاں بمعنی خرابی۔تین بار ویل فرمانے میں اس جانب اشارہ ہے کہ ایسے شخص کیلئے دنیا میں بھی خرابی ہے،برزخ میں بھی ،آخرت میں بھی۔
|
4835 -[24] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«إِنَّ الْعَبْدَ لَيَقُولُ الْكَلِمَةَ لَا يَقُولُهَا إِلَّا لِيُضْحِكَ بِهِ النَّاسَ يَهْوِي بِهَا أَبْعَدَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَإِنَّهُ لَيَزِلُّ عَنْ لِسَانِهِ أَشَدَّ مِمَّا يَزِلُّ عَنْ قَدَمِهِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ بندہ کوئی بات کرتا ہے نہیں کہتا مگر اس لیے کہ اس سے لوگوں کو ہنسائے اس کی وجہ سے وہ آسمان و زمین کے فاصلہ سے زیادہ نیچا گر جاتا ہے ۱؎ وہ اپنی زبان سے پھسلتا ہے اس سے سخت پھسلنی جو اپنے قدم سے پھسلتا ہے ۲؎(بیہقی شعب الایمان) |
۱؎ اس فرمان عالی سے آج کل کے ڈوم مراثی مسخرے،بھانڈ بھنڈیلے عبرت پکڑیں جو لوگوں کو ہنسا کر گزارہ کرتے ہیں جن کی کمائی صرف لوگوں کی ہنسائی ہے،نیز اس سے وہ واعظین بھی عبرت پکڑیں جو منبر رسول پر وعظ کرتے ہیں صرف ہنسانے کے لیے ان کے وعظ کی کامیابی لوگوں کے قہقہہ سے ہوتی ہے۔پناہ بخدا ان کے وعظ میں پتہ نہیں چلتا کہ دین کا وعظ ہورہا ہے یا سینما کا کوئی دل لگی شو۔
۲؎ یعنی پاؤ ں کی پھسلن سے زبان کی لغزش زیادہ خطرناک ہے کہ پاؤ ں کی لغزش سے بدن چوٹ کھاتا ہے مگر زبان کی لغزش سے دل،جان،ایمان زخمی ہوتا ہے۔زبان کی لغزش سے ہی قتل و خون ہوتے ہیں،زبان ہی کی لغزش سے انسان کا فرو بے دین ہوجاتا ہے ابلیس اپنی زبان کی لغزش کی سزا اب تک پارہا ہے۔
|
4836 -[25] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم:«من صَمَتَ نَجَا».رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي " شعب الْإِيمَان |
روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو خاموش رہا نجات پاگیا ۱؎(احمد،ترمذی،دارمی،بیہقی شعب الایمان) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع