30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ یعنی ہم دوست دشمن نیک و بد سب سے اخلاق ہی برتتے ہیں کسی سے کج خلقی سے پیش نہیں آتے تم کو ہمارا تجربہ ہے۔
۵؎ یعنی بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ لوگ ان سے نالاں ہوتے ہیں مگر اس سے ڈرکر اس کا احترام کرتے ہیں یہ انہیں میں سے ہے اگر میں اس کے سامنے وہ ہی کہتا جو اس کے پس پشت کہا تھا تو یہ میرے پاس آنا چھوڑ دیتا اور اس کی اصلاح نہ ہوسکتی۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی شخص کا مشہور عیب پس پشت بیان کرنا غیبت نہیں،نیز لوگوں کو اس کی شر سے بچانے کے لیے اس کی شر پر مطلع کردینا غیبت نہیں،نیز کسی کی اصلاح کے لیے اس کو برا نہ کہنا اس سے اخلاق سے پیش آنا سنت رسول الله ہے صلی الله علیہ و سلم۔ہرشخص کی اصلاح کے طریقے جدا گانہ ہیں حضور حکیم مطلق ہیں۔
|
4830 -[19] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ أُمَّتِي مُعَافًى إِلَّا الْمُجَاهِرُونَ وَإِنَّ مِنَ الْمَجَانَةِ أَنْ يَعْمَلَ الرَّجُلُ عَمَلًا بِاللَّيْلِ ثُمَّ يُصْبِحَ وَقَدْ سَتَرَهُ اللَّهُ. فَيَقُولَ: يَا فُلَانُ عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللَّهِ عَنْهُ ". وَذكر فِي حَدِيث أبي هُرَيْرَة: «من كَانَ يُؤمن بِاللَّه» فِي «بَاب الضِّيَافَة» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے میری ساری امت کو عافیت دی جاوے گی ۱؎ سوا اعلانیہ گناہ کرنے والوں کے ۲؎ اور اعلانیہ سے یہ بھی ہے۳؎ کہ کوئی شخص رات میں کوئی کام کرے پھر صبح پائے کہ الله نے اس کا پردہ رکھ لیا مگر وہ کہے اے فلاں میں نے آج رات ایسا ایسا کیا۴؎ حالانکہ رات میں اس کے رب نے اسے چھپا لیا وہ صبح کو الله کا پردہ خود ہی کھولنے لگا ۵؎ (مسلم،بخاری)اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث(جو الله پر ایمان رکھتا ہو) دعوت کے باب میں ذکر کردی گئی ۶؎ |
۱؎ معافی کے دو معنی ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ عفو سے یعنی رب تعالٰی کی طرف سے معافی دی جاوے گی۔ دوسرے یہ کہ عافیت سے ہو یعنی اسے عافیت دی ہوئی ہے اس کی غیبت حرام ہے۔
۲؎ یعنی علانیہ گناہ کرنے والوں کی نہ آخرت میں پردہ پوشی کی جاوے گی نہ دنیا میں،ان کی غیبت حرام ہوگی ان کی غیبت جائز ہے کہ وہ خود ہی اپنے پردہ دار نہیں۔
۳؎ مجانہ کے معنی اعلان بھی ہیں اور بے پرواہ بھی یہاں دونوں معنی درست ہیں۔
۴؎ یعنی اپنے چھپے گناہ خود ہی لوگوں پر ظاہر کرے الله تعالٰی کی ستاری سے فائدہ ا ٹھاکر خفیہ توبہ نہ کرے۔
۵؎ اس بناء پر فقہاء فرماتے ہیں کہ چھپے گناہ کی چھپ کر توبہ کرے اعلان نہ کرے توبہ کے اعلان میں گناہ کا بھی اعلان ہوگا۔یہ حکم حقوق عباد اور بعض شرعی سزاؤ ں کے علاوہ دیگر جرموں کے لیے ہے۔اگر کسی کا حق ہم نے مار لیا اسے خبر نہ ہوئی تو ضرور اسے خبر دے اور حق ادا کرے،اگر خفیہ زنا کرایا ہے تو قاضی کے پاس اقرار کرکے سزا لے جیسے حضرت ماعز نے کہا تھا لہذا حدیث واضح ہے۔
۶؎ یعنی وہ حدیث کہ جو الله تعالٰی اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو وہ یا اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے مصابیح میں اس جگہ تھی ہم نے مناسبت کا لحاظ رکھتے ہوئے دعوت کے باب میں ذکر فرمادی،صاحب مشکوۃ نے رد و بدل بہت جگہ کیا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع