دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

۵؎  یہ روایت مسلم میں نہیں بلکہ امام بغوی نے شرح سنہ میں نقل فرمائی مگر مؤلف کے فی روایۃ کہنے سے دھوکا پڑتا ہے کہ یہ بھی مسلم ہی کی روایت ہے۔(مرقات)

۶؎  غیبت و بہتان کا یہ فرق ضرور خیال رہے بہتان بہرحال برا ہے غیبت کبھی بری کبھی بری نہیں جیساکہ ہم شروع باب میں عرض کرچکے کہ غیبت کے حرام ہونے کی چند شرطیں ہیں: کسی خاص کی ہوں وہ خاص شخص مسلمان ہو،وہ عیب بھی اس کا خفیہ ہو اور بیان بھی کرے بلا ضرورت۔رہا بہتان وہ بہرحال حرام ہے خواہ کسی کو لگائے کسی طرح لگائے۔

4829 -[18] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ: «ائْذَنُوا لَهُ فَبِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ» فَلَمَّا جَلَسَ تَطَلَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ وَانْبَسَطَ إِلَيْهِ. فَلَمَّا انْطَلَقَ الرَّجُلُ قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ لَهُ: كَذَا وَكَذَا ثُمَّ تَطَلَّقْتَ فِي وَجْهِهِ وَانْبَسَطْتَ إِلَيْهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَتى عهدتني فحاشا؟ ؟ إِن شَرّ النَّاس مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ تَرَكَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ شَرِّهِ» وَفِي رِوَايَةٍ: «اتِّقَاءَ فُحْشِهِ» .

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ ایک شخص نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے حاضری کی اجازت مانگی فرمایا کہ اجازت دے دو یہ اس قبیلہ کا بُرا آدمی ہے ۱؎ پھر جب وہ بیٹھا تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے اس کے سامنے خندہ پیشانی کی اور کشادہ روئی فرمائی ۲؎ پھر جب وہ شخص چلا گیا تو جناب عائشہ نے عرض کیا یارسول الله آپ نے اس کے متعلق ایسا ایسا فرمایا پھر اس کے اوپر خنداں پیشانی اور کشادہ روئی فرمائی۳؎  تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے مجھے فحش گو کب پایا ۴؎  الله کے نزدیک بدترین درجہ والا قیامت کے دن وہ ہے جسے لوگ چھوڑ دیں اس کی شر سے ڈر کر اور ایک روایت میں ہے اس کے فحش سے خوف کر کے ۵؎(مسلم،بخاری)

۱؎ حضور انور نے یہ بات اس وقت فرمائی جب کہ وہ ابھی حضور کے پاس پہنچا نہ تھا دروازہ پر ہی تھا یعنی اس کے پس پشت بیان فرمایا جو لغۃً غیبت ہے اس لیے صاحب مشکوۃ یہ حدیث یہاں اس باب میں لائے۔اس شخص کا نام عیینہ ابن حصن تھا۔مؤلفۃ القلوب سے تھا،اپنی قوم کا سردار بہت سخت طبیعت تھا،حضور کے پردہ فرمانے کے بعد مرتد ہوگیا،پھر حضرت ابوبکر صدیق کے ہاتھ پر دوبارہ مسلمان ہوا مگر اس کا خاتمہ اسلام پر ہوا اس کا بھتیجا حرب ابن قیس پختہ مسلمان صاحب علم،حضرت عمر رضی الله عنہ کا خاص مقرب تھا،اس کا واقعہ وہ ہے جو بخاری شریف کتاب التفسیر میں ہے کہ یہ شخص اپنے اس بھتیجے کی معرفت حضرت عمر رضی الله عنہ کے پاس پہنچا اور آپ سے کہا کہ آپ انصاف نہیں کرتے ہم کو ہمارا حق نہیں دیتے،آپ ناراض ہوئے سزا دینی چاہی،حرب ابن قیس نے عرض کیا"خُذِ الْعَفْوَ وَاۡمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰہِلِیۡنَ"۔حضور یہ جاہل ہے آپ اس سے درگزر کریں۔(مرقات،اشعہ)

۲؎  یعنی حضور مطابق عادت کریمہ کے بہت اخلاق سے پیش آئے کرم کریمانہ سے کلام فرمایا۔

۳؎  یہ کلام تو حضرت عروہ کا ہے اس لیے قلت نہ کہا بلکہ فقالت عائشہ فرمایا یا حضرت عائشہ کا ہی ہے مگر خود اپنے عمل کی حکایت اپنے نام سے کی۔مقصد یہ ہے کہ حضور کا یہ عمل شریف غیبت میں تو داخل نہیں ہے کہ اس کی غیر موجودگی میں اسے برا فرمایا اور سامنے اخلاق سے گفتگو فرمائی۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن