30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جائز ہے ان میں سے ایک تو یہ۔دوسرے کسی کا جان و مال محفوظ کرنے دشمن سے بچانے کے لیے جھوٹ بولنا بلکہ بعض جگہ جھوٹ عبادت ہے جیسے کسی متقی پرہیزگار کا اپنے کو گنہگارکہنا عبادت ہے اور بعض سچ کفر ہوجاتا ہے شیطان نے کہا تھا"رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَیۡتَنِیۡ"سچ کہا تھا ہدایت و گمراہی الله ہی کی طرف سے ہے مگر شیطان ہوگیا کافر۔
|
4826 -[15] وَعَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا رَأَيْتُمُ الْمَدَّاحِينَ فَاحْثُوا فِي وُجُوهِهِمُ التُّرَاب» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت مقداد ابن اسود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم منہ پر تعریف کرنے والوں کو دیکھو ۱؎ تو ان کے منہ میں مٹی ڈال دو ۲؎(مسلم) |
۱؎ یہاں مداحین سے مراد وہ جھولی چک ہیں جو خوشامد کے لیے لوگوں کے منہ پر تعریفیں کرتے ہیں بلکہ اس سے اپنے پیٹ پالتے ہیں،جھوٹی تعریفیں کرکے سامنے والے کو خوش کرتے ہیں جوکسی نیک شخص کی سچی تعریف کرے جس سے اس کو اور زیادہ نیکی کی رغبت ہو وہ اس میں داخل نہیں اس لیے مداحین صیغہ مبالغہ ارشاد ہوا یعنی تعریفیں کرنے کا عادی اس کا پیشہ ور۔
۲؎ بعض شارحین نے حدیث کو بالکل ظاہری معنی پر رکھا کہ واقعی ان پر مٹی ڈال دو تاکہ آئندہ وہ اس کام کی جرأت نہ کریں دو چار جگہ منہ پر خاک پڑ جانے سے اس عمل سے توبہ کرلیں۔بعض نے فرمایا کہ اس کامعنی یہ ہے کہ اس پر خاک ڈالو ادھر توبہ نہ کرو یہ نہ سمجھو کہ واقعی تم بڑے اچھے آدمی ہو یا یہ مطلب ہے کہ اسے کچھ دے دو تھوڑا مال بھی گویا خاک ہے تاکہ وہ تمہاری ہجو نہ کرے کہ ایسے لوگ کچھ نہ ملنے پر گالیاں دیتے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ انہیں بہت تھوڑا مال دو جو خاک برابر ہو زیادہ مال نہ دو اوربھی بہت معنی کیے گئے ہیں۔
|
4827 -[16] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن أبي بكرَة قَالَ: أَثْنَى رَجُلٌ عَلَى رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «وَيْلَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ أَخِيكَ» ثَلَاثًا " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَادِحًا لَا محَالة فَلْيقل: أَحسب فلَانا وَالله حسيبه إِنْ كَانَ يُرَى أَنَّهُ كَذَلِكَ وَلَا يُزَكِّي على الله أحدا ". مُتَّفق عَلَيْهِ |
روایت ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں کسی کی تعریف کی ۱؎ تو فرمایا تیری خرابی تو نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی تین بار فرمایا ۲؎ تم میں سے جوکسی کی ضرور تعریف ہی کرے تو ہے کہ میں فلاں کو ایسا سمجھتا ہوں الله تعالٰی اس پر مطلع ہے بشرطیہ وہ اسے ایسا ہی جانتا ہو۳؎ الله پر کسی کی صفائی بیان نہ کرے ۴؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی بہت زیادہ تعریف کی بہت مبالغہ سے،غالبًا وہ شخص وہاں موجود ہوگا جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے دیکھو مرقات۔
۲؎ یعنی وہ شخص ایسی طبیعت کا ہے کہ تیری تعریف سن کر مغرور و متکبر ہوجاوے گا ایسے شخص کی منہ پر تعریف اسے نقصان دیتی ہے۔خیال رہے کہ بعض لوگ اپنی تعریف سن کر اور زیادہ نیکیاں کرنے لگتے ہیں اور بعض لوگ غرور میں آجاتے ہیں پہلے قسم کے لوگوں کے منہ پر تعریف کرنا مفید ہے،دوسرے لوگوں کے لیے نقصان دہ یہاں دوسری صورت کا ذکر ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع