30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4824 -[13] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا. وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَكْذِبُ وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَة مُسلم قَالَ: «إِنَّ الصِّدْقَ بِرٌّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ. وَإِنَّ الْكَذِبَ فُجُورٌ وَإِنَّ الْفُجُورَ يهدي إِلَى النَّار» |
روایت ہے حضرت عبدالله ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ سچ کو لازم کرلو کیونکہ سچ نیکی کی طرف ہدایت دیتا ہے ۱؎ اور نیکی جنت کی طرف ہادی ہے اور انسان سچ بولتا رہتا ہے اور سچ کی تلاش کرتا رہتا ہےحتی کہ الله کے نزدیک سچا لکھ دیا جاتا ہے۲؎ اور جھوٹ سے بچو کہ جھوٹ بدکاری کی طرف رہبری کرتا ہے اور یہ بدکاری آگ کی طرف ہادی ہے۳؎ اور انسان جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ کی تلاش کرتا رہتا ہے حتی کہ الله کے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جاتاہے۴؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں ہے کہ فرمایا سچائی بھلائی ہے اور بھلائی جنت کی طرف رہبری کرتی ہے اور جھوٹ بدکاری ہے اور بدکاری آگ کی طرف رہبری کرتی ہے ۵؎ |
۱؎ یعنی جو شخص سچ بولنے کا عادی ہوجاوے الله تعالٰی اسے نیک کار بنادے گا اس کی عادت اچھے کام کرنے کی ہوجاوے گی،اس کی برکت سے وہ مرتے وقت تک نیک رہے گا برائیوں سے بچے گا۔
۲؎ اور جو الله کے نزدیک صدیق ہوجاوے اس کا خاتمہ اچھا ہوتا ہے اور وہ ہر قسم کے عذاب سے محفوظ رہتا ہے ہر قسم کا ثواب پاتا ہے اور دنیا بھی اسے سچا کہنے اچھا سمجھنے لگتی ہے،اس کی عزت لوگوں کے دلوں میں بیٹھ جاتی ہے۔
۳؎ یعنی جھوٹا آدمی آگے چل کر پکا فاسق و فاجر بن جاتا ہے جھوٹ ہزار ہا گناہوں تک پہنچادیتا ہے،تجربہ بھی اسی پر شاہد ہے۔سب سے پہلے جھوٹ شیطان نے بولا کہ حضرت آدم علیہ السلام سے کہا کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں پہلا تقیہ پہلا جھوٹ شیطان کا کام تھا۔
۴؎ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پھر یہ شخص ہر قسم کے گناہوں میں پھنس جاتا ہے اور قدرتی طور پر لوگوں کو اس کا اعتبار نہیں رہتا لوگ اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔
۵؎ یہ حدیث بہت طریقوں سے مروی ہے جنہیں مسلم،بخاری،جامع صغیر وغیرہ نے روایت فرمایا وہ تمام الفاظ یہاں مرقات نے جمع فرمائے۔
|
4825 -[14] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ وَيَقُولُ خيرا وينمي خيرا» . |
روایت ہے حضرت ام کلثوم سے فرماتی ہیں ۱؎ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جھوٹا وہ نہیں جو لوگوں کے درمیان صلح کرادے اور کہے خیر بات اور پہنچائے خیر بات ۲؎(مسلم، بخاری) |
۱؎ یہ ام کلثوم بنت رسول الله نہیں بلکہ ام کلثوم بنت عقبہ ابن ابو معیط ہیں،مکہ معظمہ میں اسلام لائیں اور وہاں سے پیدل مدینہ منورہ پہنچیں،حضرت زید ابن حارثہ کے نکاح میں آئیں،جب غزوہ موتہ میں جناب زید شہید ہوگئے تو ان سے زبیر ابن عوام نے نکاح کرلیا انہوں نے طلاق دے دی تو ان سے عبدالرحمن ابن عوف نے نکاح کرلیا،ان سے دو بیٹے ہوئے ابراہیم اور حمید پھر عبدالرحمن کی وفات کے بعد عمرو ابن عاص کے نکاح میں آئیں اور اس نکاح سے ایک ماہ بعد وفات پاگئی،حضرت عثمان غنی کی اخیافی بہن ہیں،آپ سے آپ کے صاحبزادہ حمید نے احادیث روایت کیں۔(مرقات)
۲؎ یعنی جو مسلمان دو لڑے ہوئے مسلمانوں کے درمیان جھوٹی خبریں پہنچا کر ان میں صلح کرادے تو وہ گنہگار نہیں اور یہ جھوٹ گناہ نہیں مثلًا زید و عمرو لڑے ہوئے ہیں یہ زید سے کہے کہ عمرو نے آپ کو سلام کہا ہے اور وہ آپ کی بہت تعریف کرتے ہیں،عمرو کے متعلق بھی یہی کہے حتی کہ ان کی صلح ہوجائے تو یہ شخص ثواب پائے گا۔خیال رہے کہ چندصورتوں میں جھوٹ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع