30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
رحمت اللعالمین کی امت غافل ہوجاتی ہے اسے جگاتے رہو کام لیتے رہو یہ جاگ اٹھے تو بہت کام کرتی ہے کیوں نہ ہو کہ حضور کی ان پر رحمت ہے۔شعر
عرب کے واسطے رحمت عجم کے واسطے رحمت وہ آئے لیکن آئے رحمۃ اللعالمین ہو کر
|
4822 -[11] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهُ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَجِدُونَ شَرَّ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بوجهٍ وَهَؤُلَاء بوجهٍ» . مُتَّفق عَلَيْهِ |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم قیامت کے دن بدترین لوگوں میں دو منہ والے کو پاؤ گے جو ان کے پاس اور منہ سے جاوے اور ان کے پاس اور منہ سے ۱؎(مسلم، بخاری) |
۱؎ یعنی بدترین بندہ منافق یا چغل خور ہے جو لوگوں میں لڑائی کرنے کے لیے ایک جماعت کے پاس اس کا خیر خواہ بن کر جاوے اور دوسری جماعت سے انہیں بھڑکاوے،دوسری جماعت کے پاس ان کا خیرخواہ بن جاوے انہیں بھڑکاوے لڑائی کراوے۔خدا کی پناہ! یہ عیب فی زمانہ عورت میں بہت زیادہ ہے اس سے توبہ چاہیے اس کا انجام دو طرفہ شرمندگی ہے۔شیخ سعدی نے ان کا انجام یوں فرمایا شعر
کنند ایں وآن خوش ذگر بارہ دل وے اندر میاں کو رنجت و خجل
وہ دونوں مل جاویں گے یہ دو طرفہ روسیا ہ ہوگا۔
|
4823 -[12] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ: «نَمَّامٌ» |
روایت میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جنت میں چغل خور نہ جاوے گا ۱؎(مسلم، بخاری)اور مسلم کی روایت میں چغلخور ہے۔ |
۱؎ قتات وہ شخص ہے جو دو مخالفوں کی باتیں چھپ کر سنے اور پھر انہیں زیادہ لڑانے کے لیے ایک کی بات دوسرے تک پہنچائے اگر یہ شخص ایمان پر مرا تو جنت میں اولًا نہ جائے گا بعد میں جائے تو جائے،اگر کفر پر مرا تو کبھی وہاں نہ جاوے گا۔خیال رہے کہ جو دو طرفہ جھوٹی باتیں لگا کر صلح کرا دے وہ نمام نہیں مصلح ہے،نمام وہ ہے جو لڑائی و فساد کے لیے یہ حرکات کرے۔
|
4824 -[13] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا. وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَكْذِبُ وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَة مُسلم قَالَ: «إِنَّ الصِّدْقَ بِرٌّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ. وَإِنَّ الْكَذِبَ فُجُورٌ وَإِنَّ الْفُجُورَ يهدي إِلَى النَّار» |
روایت ہے حضرت عبدالله ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ سچ کو لازم کرلو کیونکہ سچ نیکی کی طرف ہدایت دیتا ہے ۱؎ اور نیکی جنت کی طرف ہادی ہے اور انسان سچ بولتا رہتا ہے اور سچ کی تلاش کرتا رہتا ہےحتی کہ الله کے نزدیک سچا لکھ دیا جاتا ہے۲؎ اور جھوٹ سے بچو کہ جھوٹ بدکاری کی طرف رہبری کرتا ہے اور یہ بدکاری آگ کی طرف ہادی ہے۳؎ اور انسان جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ کی تلاش کرتا رہتا ہے حتی کہ الله کے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جاتاہے۴؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں ہے کہ فرمایا سچائی بھلائی ہے اور بھلائی جنت کی طرف رہبری کرتی ہے اور جھوٹ بدکاری ہے اور بدکاری آگ کی طرف رہبری کرتی ہے ۵؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع