دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

۱؎  یعنی دانہ بیچتے اور خریدتے قرض لیتے دیتے وقت ناپ تول کر لیا کرو تاکہ کمی بیشی نہ ہو اور تمہارے ذمے دوسروں کا اور دوسرے کے ذمے تمہارا حق نہ رہے یا جب بال بچوں کے لیے کھانا پکانے لگو تو وزن کرکے پکاؤ تاکہ کم نہ پڑے اور نہ کھانا فالتو بچے،یہ حکم استحبابی ہے۔

۲؎ یہ عمل بہت مجرب ہے کہ جب بازار سے کچھ آوے تو ناپ تول کر کے رکھی جائے ان شاء الله بہت ہی برکت ہوگی،ہاں خیرات کرتے وقت یا  توکل کے موقعہ پر ناپ تول نہ کرے لہذا جن احادیث میں ہے کہ بعض صحابہ کرام کو حضور انورنے کچھ جو عطا فرمائے جس سے وہ برسوں کھاتے رہے جب اتفاقًا تول لیے تو ختم ہوگئے،وہ حدیث اس کے خلاف نہیں وہاں توکل کی تعلیم تھی،یوں ہی فطرہ تول کر خیرات کرے کہ وہاں اداء واجب وزن سے متعلق ہے۔

4199 -[41]

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَعَ مَائِدَتَهُ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبُّنَا» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا دستر خوان جب اٹھایاجاتا ۱؎ تو آپ فرماتے الله  کا شکر ہے بہت شکر پاکیزہ ۲؎جس میں برکت دی جائے نہ کفایت کیا ہوا اور نہ وداع کیا ہوا اور نہ اس سے بے پرواہی کی ہوئی اے ہمارے رب۳؎(بخاری)

۱؎ حق یہ ہے کہ یہاں مائدہ سے مراد کپڑے کا دسترخوان ہے یا کھجور کے پتوں کا نہ کہ لکڑی کا خوان کیونکہ حضور صلی الله علیہ وسلم لکڑی کے خوان اور میز پر کھانا نہ کھاتے تھے۔

۲؎ یعنی ایسی حمد جو ریا وغیرہ سے پاک ہو،اخلاص سے شامل ہو یہ تینوں کلمے یعنی کثیر،طیب اور مبارك حمدًا کی صفات ہیں اور حمدًا  مفعول ہے نحمدہ فعل پوشیدہ کا۔

۳؎  ظاہر یہ ہے کہ غیر پیش سے ہے ھو پوشیدہ کی خبر اور یہ کلام دعائیہ ہے،ھو کا مرجع بچا ہوا وہ کھانا ہے جو سامنے سے اٹھایا جارہا ہے یعنی ابھی یہ کام ہم کو کافی نہ ہوچکا ہو،ہم سے وداع نہ ہو گیا ہو،ہم اس سے بے نیاز نہ ہوگئے ہوں،ہم کو پھر بھی عطا ہو۔یہ تینوں لفظ اسم مفعول ہیں مکفی۔مودع اور مستغنی اور ہوسکتا ہے کہ غیر کو فتح ہو اور یہ حمدًا کی صفت یا حال ہو یعنی ہم رب کی ایسی حمدکرتے ہیں جو نہ تو کفایت کی جاچکی ہے اور بس ہوچکی اور نہ آخری حمد ہے اور نہ ہم آئندہ کے لیے اس حمد سے بےنیاز ہوچکے ہم پھر بھی اپنے رب کی حمدکرتے رہیں اس کی نعمتوں کے گن گاتے رہیں اور ہوسکتا ہے کہ مکفی،مودع اور مستغنی تینوں اسم فاعل ہوں اور یہ عبارت نحمدہ کے مفاعل سے حال ہو تب معنی ہوں گے کہ ہم اتنی حمد پر کفایت ہی نہ کریں آئندہ بھی حمد کریں نہ حمد کی وداع کریں نہ آئندہ حمد الٰہی سے مستغنی و بے نیاز ہوجائیں مگر پہلی توجیہ ظاہر بھی ہے قوی بھی اور موقعہ کے مناسب بھی کہ کھانا کھا چکنے پر یہ دعا ہے تو کھانے کے متعلق ہونی چاہیے۔ربنا مرفوع بھی ہوسکتا ہے منصوب بھی مجروربھی۔انت ربنا یاربنا یہ الله کا بدل ہے تو مجرور ہے۔ (مرقات وغیرہ)

4200 -[42]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَيَرْضَى عنِ العبدِ أنْ يأكلَ الأكلَةَ فيحمدُه عَلَيْهِ أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ و سنذكرُ حَدِيثي عائشةَ وَأبي هريرةَ: مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ وَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الدُّنْيَا فِي «بَابِ فَضْلِ الْفُقَرَاءِ» إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى

روایت ہے حضر ت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ الله تعالٰی بندے سے خوش ہوتا ہے کہ وہ لقمہ کھائے تو اس پر الله کا شکر کرے ۱؎ یا گھونٹ پیئے تو اس پر الله کا شکر کرے ۲؎ (مسلم)اور ہم حضرت عائشہ اور ابو ہریرہ کی دونوں حدیثیں ایک ماشبع الخ دوسری،خرج النبی الخ صلی الله علیہ وسلم ان شاء الله باب فضل فقراء میں بیان کریں گے۳؎

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن