دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

درجہ والا جس کا مقام نبی کے بعد بغیر واسطہ بغیر فاصلہ کے ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیۡقِیۡنَ"اسلام میں پہلے صدیق حضرت ابوبکر صدیق اکبر ہیں۔

۲؎ یعنی جسے الله تعالٰی صدیق بنائے وہ لوگوں پر لعنت کرنے کا عادی نہیں ہوتا کیونکہ صد یقیت کو نبوت سے بہت ہی قرب ہے کہ نبی کے بعد صدیق کا درجہ ہے،حضرات انبیاء رحمت والے ہوتے ہیں نہ کہ لعنت بھیجنے والے اور نہ عذاب کی دعائیں کرنے والے۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جن کے مذہب میں تبراولعنت بہترین عبادت ہے۔نعوذ بالله!  الحمدلله کہ اہل سنت نے لعنت کو نہ عبادت سمجھی نہ عادت ڈالی حتی کہ جو لوگ لعنت کے مستحق بھی ہیں ان پر بھی لعنت کرنا اپنا شیوہ نہیں بناتے،ہمارے ہاں ابلیس یا ابوجہل یا فرعون پر لعنت کرتے رہنا عبادت نہیں بلکہ عبث کام ہے۔خیال رہے کہ لعنت دو قسم کی ہے: ایک تو الله تعالٰی کی رحمت عامہ سے دوری یہ صرف کفار کےلیے،دوسری رحمت خاصہ یعنی بلندی درجات سے محرومی یہ گنہگار مسلمان کو بھی ہوسکتی ہے،جن کفار کا کفر پر مرنا دلیل شرعی سے ثابت ہو ان پر نام لےکر لعنت کرنا درست ہے۔ دوسروں کو وصف سے لعنت کرسکتے ہیں نام لے کر نہیں کرسکتے یہ کہہ سکتے ہیں کہ جھوٹوں پر یا ظالموں پر خدا کی لعنت،یہ نہیں کہہ سکتے کہ فلاں پر جو جھوٹا ہے لعنت،یہ بھی خیال رہے کہ الله کی لعنت کے معنی ہیں رحمت سے دورکرنا،بندوں کی لعنت کے معنی ہیں اس دوری کی بد دعا کرنا۔(اشعہ)

4820 -[9]

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّعَّانِينَ لَا يَكُونُونَ شُهَدَاءَ وَلَا شُفَعَاء يَوْم الْقِيَامَة» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ بہت لعن طعن کرنے والے قیامت کے دن نہ گواہ ہوں گے نہ شفیع ۱؎(مسلم)

۱؎ یعنی امت رسول الله  صلی اللہ علیہ وسلم روز قیامت گزشتہ انبیاءکرام کی گواہ بھی ہوگی کہ انہوں نے اپنی امتوں کو تبلیغ فرما دی اور گنہگاروں کی شفیع بھی مگر جو مسلمان لعن و طعن کا عادی ہوگا وہ ان دونوں نعمتوں سے محروم رہے گا لہذا دنیا میں لعن طعن کے عادی نہ بنو۔

4821 -[10]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ: هَلَكَ النَّاسُ فَهُوَ أَهْلَكُهُمْ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب کوئی شخص کہے کہ لوگ ہلاک ہوگئے تو اس نے انہیں ہلاک کردیا ۲؎(مسلم)

۱؎ اھلکھم کی دو قراءتیں ہیں کاف کے ضمہ سے یعنی صیغہ اسم تفضیل ہو اور کاف کے فتحہ سے ماضی۔یعنی جو مسلمانوں کے متعلق یہ کہتا  رہے کہ سارے مسلمان ہلاک ہوگئے،رحمت خدا سے دور ہوگئے،بے دینی ہوگئے تو ان سب میں زیادہ ہلاک ہونے والا یہ ہوگا کہ وہ مسلمانوں کو رحمت الٰہی سے دور سمجھ رہا ہے یا جو لوگوں کو رحمت الٰہی سے مایوس کرے  اور  کہے کہ لوگ برباد ہوگئے،کافر ہوگئے،فاسق ہوگئے تو ان لوگوں کو رب تعالٰی نے ہلاک نہ کیا بلکہ اس نے ہلاک کیا اگر لوگ مایوس ہوکر گنہگار بن جاویں تو مجرم یہ ہوگا۔مسلمان کہتے ہیں گنہگار ہوں مگر ان شاءالله رحمت الٰہی ان کی دستگیری کرے گی انہیں سے کام لے گی کوئی انہیں ابھارنے والا ہو۔ڈاکٹر اقبال نے کیا خوب کہا۔شعر

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن