30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4816 -[5] وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَرْمِي رَجُلٌ رَجُلًا بِالْفُسُوقِ وَلَا يَرْمِيهِ بِالْكُفْرِ إِلَّا ارْتَدَّتْ عَلَيْهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ صَاحِبُهُ كَذَلِكَ» رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کوئی شخص کسی شخص کو فسق کی اور کفر کی تہمت نہیں لگاتا مگر وہ اسی پر لوٹتا ہے اگر اس کا صاحب ایسا نہ ہو ۱؎(بخاری) |
۱؎ مقصد یہ ہے کہ کسی مسلمان کو کافر یا فاسق نہ کہو کیونکہ اگر وہ واقعی کافر یا فاسق ہوا تب تو یہ لفظ اس پر صادق آوے گا ورنہ کہنے والے پر کہ یہ کہنے والا یا کافر و فاسق ہوجاوے گا یا کافر و فاسق کہنے کا وبال اس پر پڑے گا۔
|
4817 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ دَعَا رَجُلًا بِالْكُفْرِ أَوْ قَالَ: عَدُوَّ اللَّهِ وَلَيْسَ كَذَلِكَ إِلاَّ حارَ عليهِ ". |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو کسی شخص کے کافر ہونے کا دعویٰ کرے یا کہے الله کا دشمن اور وہ ایسا ہو نہیں مگر وہ اس پر لوٹتا ہے ۱؎(مسلم، بخاری) |
۱؎ اس کا مطلب ابھی عرض کیا گیا کہ مسلمان کو کسی عقیدہ اسلامیہ کی وجہ سے کافر کہنے والا یا ایسے مسلمان کو جس کا اسلام یقینی قطعی ہو کہنے والا خود کافر ہے بطور گالی کافر کہنے کا سخت گنہگار ہے جیسے کسی کو حرامی کہا تو اسے قذف لگ سکتی ہے۔
|
4818 -[7] وَعَن أنس وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَى الْبَادِئِ مالم يعْتد الْمَظْلُوم» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ گالی گلوچ کرنے والے جو کچھ کہیں اس کا وبال ابتداءکرنے والے پر ہے جب تک کہ مظلوم زیادتی نہ کرے ۱؎ (مسلم) |
۱؎ یعنی دونوں کی برائیوں کا وبال ابتداءکرنے والے پر ہوگا جب کہ دوسرا زیادتی نہ کرجاوے صرف اگلے کو جواب دے۔خیال رہے کہ گالی کے بدلےمیں گالی نہ دینا چاہیے کہ گالی فحش ہے جس سے زبان اپنی ہی خراب ہوتی ہے۔سبّ کے معنی ہیں برا کہنا نہ کہ گالی دینا ، گالی دینے والے سے بدلہ اور طرح لو اسے گالی نہ دو اگر کتا کاٹ لے تو تم اسے کاٹو مت بلکہ لکڑی سے مار دو لہذا حدیث واضح اس میں گالیاں بکنے کی اجازت نہ دی گئی۔
|
4819 -[8] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَنْبَغِي لِصِدِّيقٍ أنْ يكونَ لعَّاناً» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ صدیق کے لیے یہ لائق نہیں ۱؎ کہ لعن و طعن کرنے والا ہو ۲؎(مسلم) |
۱؎ صدیق کے لغوی معنی ہیں بہت سچا یہ صدیق کا مبالغہ ہے۔صادق وہ جو جھوٹ نہ بولے،صدیق وہ جو جھوٹ نہ بول سکے،صادق وہ جو ایک آدھ بار سچ بولے،صدیق وہ جو ہمیشہ سچ بولا کرے،صادق وہ جو کلام کا سچا ہو، صدیق وہ جو کام کلام ہر وصف کا سچا ہو،صادق وہ جو وہ کہے جو واقعہ ہو،صدیق وہ کہ جو کہہ دے واقعہ ایسا ہی ہوجاوے۔صوفیاء کے نزدیک صدیق ایک
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع