دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

4813 -[2]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ لَا يُلْقِي لَهَا بَالًا يَرْفَعُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَاتٍ وَإِنَّ الْعَبْدَ لِيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ لَا يُلْقِي لَهَا بَالًا يَهْوِي بِهَا فِي جَهَنَّمَ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: «يَهْوِي بِهَا فِي النَّارِ أَبْعَدَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ بندہ رضاء الٰہی کا کوئی کلمہ بول دیتا ہے جس کی پرواہ بھی نہیں کرتا الله تعالٰی اس کی وجہ سے اس کے درجے بڑھا دیتا ہے ۱؎  اور بندہ الله کی ناراضی کی کوئی بات کردیتا ہے جس کی پرواہ بھی نہیں کرتا اس کی وجہ سے دوزخ میں گر جاتاہے۲؎(بخاری)اور مسلم،بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ اس سے آگ میں گرجاتا ہے مشرق و مغرب کے فاصلے کے برابر۳؎

۱؎ یعنی بعض باتیں انسان کے نزدیک معمولی ہوتی ہیں الله تعالٰی کے نزدیک عظیم الشان کہ بولنے والے کو عظیم الشان بنا دیتی ہیں۔

۲؎  یعنی بعض باتیں انسان کی نگاہ میں نہایت معمولی ہوتی ہیں رب تعالٰی کے نزدیک بدترین جرم کہ انسان کو دوزخی بنا دیتی ہیں لہذا زبان کی بہت ہی حفاظت چاہیے۔

۳؎  دوزخ میں جس قدر نیچائی زیادہ اسی قدر عذاب سخت،جنت میں جس قدر اونچائی زیادہ اسی قدر ثواب اعلیٰ، دوزخ کا طبقہ ہاویہ سب سے نیچا ہے۔مطلب یہ ہے کہ بدعملی کی وجہ سے انسان دوزخ کے اونچے طبقے میں جاوے گا جہاں عذاب ہلکا ہے مگر برے کلام کی وجہ سے نیچے طبقہ میں جاوے گا جہاں عذاب سخت تر ہے۔رب تعالٰی نے انسان کو ارکان(اعضاء)جنان(دل)لسان (زبان)عطا فرمائے ہیں ارکان و جنان کے گناہوں سے لسان یعنی زبان کا جرم بدترین ہے۔

4814 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

روایت ہے حضرت عبدالله ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله  صلی الله علیہ وسلم نے کہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اسے قتل کرنا کفر ہے ۱؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ کفر یا بمعنی کفران نعمت یعنی ناشکری ہے،ایمان کا  مقابل یعنی بلاقصور مسلمان کو برا کہنا  اور بلا قصور اس سے لڑنا بھڑنا ناشکری ہے یا کفا ر کا  سا کام ہے یا  اسے مسلمان ہونے کی وجہ سے مارنا  پیٹنا یا ناجائز  جنگ کو حلال سمجھ کر کرنا کفر و بے ایمانی ہے۔(مرقات)

4815 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ قَالَ لِأَخِيهِ كَافِرُ فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحدهمَا» . مُتَّفق عَلَيْهِ

روایت ہے حضرت  ابن عمر سے  فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے  کہ مسلمان اپنے بھائی  مسلمان کو   کافر کہے تو  اس کے کفر کو لے کر ان دونوں میں  سے ایک لوٹے گا ۱؎ (مسلم ، بخاری)

۱؎ یعنی جو مسلمان دوسرے مسلمان کو کافر کہے اگر وہ مسلمان واقعی کوئی کفریہ کام یا کفریہ کلام کرچکا ہے تب تو یہ کفر اس پر پڑے گا لیکن اگر اس میں کوئی کفر نہ ہو تو یہ کہنے والا کافر ہوجاوے گا جب کہ کسی قطعی ایمان والے کو کافر کہے جیسے صحابہ کرام کو خصوصًا مبشرین الجنۃ کو کافر کہنے والا یقینًا کافر ہے کہ قرآن حدیث تو انہیں مؤمن کہہ ر ہے ہیں اور یہ انہیں کافر کہتا ہے تو قرآن و حدیث کا منکر ہے یا کسی عقیدہ اسلامیہ کی بنا پر کافر کہتا ہے تو بھی یہ کہنے والا کافر ہے،اس سے وہ شخص مراد نہیں جو کسی کو گالی کے طور پر کافر کہے یا کافر کے معنی ناشکرا یا چھپانے والاکرے لہذا حدیث واضح ہے حضرت خسرو فرماتے ہیں

کافر عشقم مسلمانی مرا درکار نیست                             ہررگ من تارگشتہ حاجت نار نیست

یہاں کافر عشق سے مراد ہےعشق کا چھپانے والا اسے دل میں رکھنے والا،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطّٰغُوۡتِ وَیُؤْمِنۡۢ بِاللہِ"جو کوئی بتوں کو انکارکرے الله پر ایمان لائے۔یہاں کفر بمعنی انکار ہے لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں۔امام نووی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث بہت مشکل ہے،فقیر نے جو توجیہ کی ہے ان شاءالله اس سے اشکال نہ رہا۔

4816 -[5]

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَرْمِي رَجُلٌ رَجُلًا بِالْفُسُوقِ وَلَا يَرْمِيهِ بِالْكُفْرِ إِلَّا ارْتَدَّتْ عَلَيْهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ صَاحِبُهُ كَذَلِكَ» رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کوئی شخص کسی شخص کو فسق کی اور کفر کی تہمت نہیں لگاتا مگر وہ اسی پر لوٹتا ہے اگر اس کا صاحب ایسا نہ ہو ۱؎(بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن