30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4807 -[25] وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشِّعْرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ كَلَامٌ فَحَسَنُهُ حَسَنٌ وَقَبِيحُهُ قَبِيحٌ» . رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيّ 4808 -[26]وروى الشَّافِعِي عَن عُرْوَة مُرْسلا |
روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس شعر کا ذکر کیا گیا تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ایک کلام ہے اچھا شعر اچھا ہے اور برا شعر برا ۱؎ (دارقطنی) اور شافعی نے عروہ سے ارسالًا روایت کی۔ |
۱؎ یعنی شعر کی اچھائی برائی اس کے مضمون سے ہے،بعض شعر پڑھنا عبادت ہے،بعض کفر،بعض ثواب جیسا مضمون ویسا حکم۔
|
4809 -[27] وَعَن أبي سعيدٍ الخدريِّ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بالعرج إِذْ عَرَضَ شَاعِرٌ يُنْشِدُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذُوا الشَّيْطَانَ أَوْ أَمْسِكُوا الشَّيْطَانَ لِأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ |
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں اس حال میں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ مقام عرج میں چل رہے تھے ۱؎ کہ ایک شاعر شعر پڑھتا سامنے آیا تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا پکڑ لو شیطان کو یا روک لو شیطان کو ۲؎ کسی شخص کا پیٹ پیپ سے بھرا ہوا اس کے لیے اس سے اچھا ہے کہ شعروں سے بھرا ہو ۳؎(مسلم) |
۱؎ عرج یمن کا ایک شہر بھی ہے،علاقہ ہذیل میں ایک میدان بھی،مکہ معظمہ کے راستہ میں ایک منزل بھی، مدینہ منورہ سے ۷۸ اٹھتر میل پر،یہاں یہ تیسرے معنی مراد ہیں۔
۲؎ یعنی یہ شاعر انسان شیطان ہے اسے شعر پڑھنے سے روک دو۔شاید اس کی اشعار گندے واہیات تھے جن میں زنا،شراب، عورتوں کی تعریفیں تھیں جیساکہ جاہلیت کے شعراء کے کلام میں دیکھاجاتا ہے اس لیے روک دیا گیا۔
۳؎ اس کی شرح پہلے عرض کی گئی کہ یا برے اشعار مراد ہیں یا اشعار کا طبیعت پر غلبہ کہ اسے گانے کے سواء کچھ سوجھے ہی نہیں اس لیے ارشاد ہو ان یمتلی۔
|
4810 -[28] وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْغِنَاءُ يُنْبِتُ النِّفَاقَ فِي الْقَلْبِ كَمَا يُنْبِتُ الْمَاءُ الزَّرْعَ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شعب الْإِيمَان» |
روایت ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ گانا دل میں نفاق ایسا اُگاتا ہے جیسے پانی کھیتی کو ۱؎(بیہقی شعب الایمان) |
۱؎ یعنی مرد کا گانا خود گانے والے اور سننے والے کے دل میں منافقت پیداکرتا ہے لہذا عورت کا گانا سننا یا عورت و مرد کا مل کر گانا یا باجہ پر گانا اس سے بدتر ہے۔عرب کہتے ہیں الغناء رقیۃ الزنا یعنی گانا زنا کا منتر ہے،مراد گانے سے وہ ہی ہے جو اوپر عرض کیا۔خوش الحانی سے نعت شریف حضرت حسان پڑھتے تھے، حضور کی تشریف آوری کے موقعہ پر مدینہ منورہ کی بنی نجار کی بچیوں نے گیت گئے ہیں،شادی عید کے موقع پر بچیوں کو حضور نے اچھے گیت گانے کی اجازت دی،اجنبی عورتوں سے مرد نعت بھی نہ سنیں کہ آواز میں دلکشی ہوتی ہے اسی لیے عورتوں کو اذان دینا،تکبیر کہنا،خوش الحانی سے اجنبیوں کے سامنے تلاوت قرآن کرنا سب ممنوع ہے عورت کی آوازبھی سترہے۔
|
4811 -[29] وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي طَرِيقٍ فَسَمِعَ مِزْمَارًا فَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ وَنَاءَ عَنِ الطَّرِيقِ إِلَى الْجَانِبِ الْآخَرِ ثُمَّ قَالَ لِي بَعْدَ أَنْ بَعُدَ: يَا نَافِعُ هَلْ تسمعُ شَيْئا؟ قلتُ: لَا فرفعَ أصبعيهِ عَن أُذُنَيْهِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ صَوْتَ يَرَاعٍ فَصَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُ. قَالَ نَافِعٌ: فَكُنْتُ إِذْ ذَاكَ صَغِيرًا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر کے ساتھ ایک راستہ میں تھا کہ آپ نے باجہ کی آواز سنی ۱؎ تو اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں لگالیں اور راستہ سے دور ہٹ گئے دوسری طرف پھر دور جا چکنے کے بعد مجھ سے فرمایا کہ اے نافع کیا تم کچھ سن رہے ہو میں نے کہا نہیں تب آپ نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں سے نکالیں۲؎ فرمایا میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھا تو حضور نے بانسی کی آواز سنی ۳؎ تو یونہی کیا جو میں نے کیا،نافع فرماتے ہیں کہ اس وقت میں چھوٹا تھا۴؎(احمد،ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع