30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ غیرضروری چیزیں سیکھنا ضروری چیزیں نہ سیکھنا جہالت ہے،بعض لوگ بجائے علم دین کے فلسفہ منطق ریاضی میں عمر صرف کردیتے ہیں یہ جہالت ہے،یوں ہی جو علم رب تک نہ پہنچائے وہ جہالت ہے،یوں ہی علم بے عمل جہالت ہے یا علم کا دعویٰ ہو مگر علم نہ ہو یہ جہالت مرکبہ ہے جس علم کے ساتھ عقل یا معرفت نہ ہو وہ جہالت ہے۔
۳؎ بعض علماء نے بہت سے علوم اشعار میں بیان کردیئے ہیں۔ایک بزرگ نے سارے قرآن مجید کی تفسیر پنجابی اشعار میں لکھی،تفسیر سورۂ یوسف نظم میں تو بہت لوگوں نے لکھیں یہ اشعار حکمت ہیں ان سے علم کی اشاعت بہت ہوتی ہے۔
۴؎ یا کہنے والے پر وبال کہ اپنے کلام سے پکڑا جاوے یا سننے والے پر وبال کہ وہ اکتا جاوے مگر یہ ختم ہی نہ کرے یا وہ سمجھے نہیں اور یہ کہے جاوے۔
|
4805 -[23] عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ يَقُومُ عَلَيْهِ قَائِمًا يُفَاخِرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أوينافح. وَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ حَسَّانَ بِرُوحِ الْقُدُسِ مَا نَافَحَ أَوْ فَاخَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جناب حسان کے لیے مسجد میں منبر رکھتے تھے جس پر وہ سیدھے کھڑے ہوں ۱؎ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے فخر کرتے تھے یا دفع فرماتے تھے ۲؎ اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم فرماتے تھے کہ الله بذریعہ جبریل حضرت حسان کی مدد فرماتا ہے جب تک کہ وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے فخر کرتے ہیں یا دفع کرتے رہتے ہیں۳؎(بخاری) |
۱؎ حضور کی نعت شریف پڑھنے کے لیے یا مشرکین عرب کی ہجو کرنے کے لیے۔سبحان الله! کیا تقدیر ہے حضرت حسان کی کہ حضور انور کی مجلس مبارک میں مسجد نبوی شریف میں آپ کو منبر عطا ہو رہا ہے نعت خوانی نعت گوئی الله کی رحمت ہے بشرطیکہ مقبول ہو۔
۲؎ یعنی حضور کی تشریف آوری اور خود اپنے کو حضور کی اتباع نصیب ہونے پر فخر کرتے تھے۔شعر
انسانیت کو فخر ہے تیری ذات سے بے نور تھا خرد کا ستارہ تیرے بغیر
یا مشرکین سے حضور کا بدلہ لیتے تھے کہ ان کی ہجو کرتے تھے حضور انور کے فضائل بیان فرماتے تھے،آپ خود سنتے اور لوگوں کو سننے کا حکم دیتے تھے حضرت حسان کو دعائیں دیتے تھے۔
۳؎ یعنی میں دیکھتا ہوں کہ جب تک جناب حسان ہماری نعت خوانی کفار کی ہجو کرتے ہیں ان کے سر پر حضرت جبریل علیہ السلام کا ہاتھ ہوتا ہے اس ہاتھ کے اثر سے انکے دل میں اچھے مضامین پیدا ہوتے ہیں اچھے الفاظ سمجھ میں آتے ہیں اچھی طرح اخلاص کے ساتھ ادا ہوتے ہیں یہ سب کچھ حضرت جبریل کی مدد کا نتیجہ ہے۔خیال رہے کہ دوست چند نوعیتوں کے ہوتے ہیں: اپنا دوست وہ دوست،اپنے دوست کا دوست وہ دوست،دشمن کا دشمن وہ دوست۔یوں ہی دشمن چند قسم کے ہیں: اپنا دشمن،اپنے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع