30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4802 -[20] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَعَلَّمَ صَرْفَ الْكَلَامِ لِيَسْبِيَ بِهِ قُلُوبَ الرِّجَالِ أَوِ النَّاسِ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عدلا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو بات کا ہیر پھیر سیکھے ۱؎ تاکہ اس سے مردوں یا لوگوں کے دل پھانس لے تو الله تعالیٰ قیامت کے دن اس کے نہ فرائض قبول فرمائے گا نہ نوافل ۲؎ (ابوداؤد) |
۱؎ صرف کے چند معنی ہیں: ایک مضمون کو مختلف عبارتوں سے بیان کرنا،اچھی عبارت بولنا،جھوٹی بات سچی کرکے دکھانا یعنی جو عالم لچھے دارگفتگو زناٹے کی تقریریں کرنا اس لیے سیکھے کہ لوگ اس کے جال میں پھنس جائیں لوگ اس کے معتقد ہو جاویں۔
۲؎ صرف وعدل کے بہت معنی ہیں: صرف فرض،عدل نفل،صرف توبہ،عدل فدیہ ،صرف عبادات عدل درستی معاملات یعنی ایسے ریا کار کے اعمال بارگاہِ الٰہی میں قابلِ قبول نہیں۔وجہ ظاہر ہے کہ اس نے علم دین و دنیا کے لیے حاصل کیا الله کی اعلیٰ نعمت کی بے قدری کی۔
|
4803 -[21] وَعَن عمْرِو بن العاصِ أَنَّهُ قَالَ يَوْمًا وَقَامَ رَجُلٌ فَأَكْثَرَ الْقَوْلَ. فَقَالَ عَمْرٌو: لَوْ قَصَدَ فِي قَوْلِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَقَدْ رَأَيْتُ - أَوْ أُمِرْتُ - أَنْ أَتَجَوَّزَ فِي الْقَوْلِ فَإِنَّ الْجَوَازَ هُوَ خير» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عمرو بن عاص سے کہ انہوں نے ایک دن فرمایا حالانکہ ایک آدمی کھڑا ہوا تو بہت باتیں کیں ۱؎ تب حضرت عمرو نے فرمایا کہ اگر یہ اپنے کلام میں اختصارکرتا تو اچھا ہوتا ۲؎ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سنا کہ میں مناسب سمجھتا ہوں یا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ کلام میں اختصار کیا کروں۳؎ کیونکہ مختصر کرنا میں بہتر ہے۴؎ (ابوداؤد) |
۱؎ یعنی بہت لمبی تقریر کی نہایت فصیح و بلیغ تاکہ لوگ اس کے کمال کے قائل ہوجاویں لوگ اس کی دراز تقریر سے گھبرا گئے اکتاگئے۔
۲؎ کہ زیادہ باتیں لوگ بھول جاتے ہیں دلوں پر اثر نہیں ہوتا بہتر یہ ہے کہ کلام تھوڑا ہو مگر دلنشیں اور مؤثر ہو۔
۳؎ ہر کلام میں خصوصًا وعظ و نصیحت میں اختصار مفید اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے خیر الکلام ماقل و دل لوگوں کو یاد خوب رہتا ہے۔
۴؎ اس حدیث کی اسناد میں محمد ابن اسماعیل ابن عباس راوی ہے اسے محدثین نے ضعیف فرمایا ہے۔
|
4804 -[22] وَعَنْ صَخْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَن أَبِيه عَن جدِّه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا وَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ جَهْلًا وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا وَإِنَّ مِنَ الْقَوْلِ عِيَالًا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت صخر بن عبدالله ابن بریدہ سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ بعض بیان جادو ہیں اور بعض علم جہالت ہے ۲؎ اور بعض شعر حکمت ہیں۳؎ اور بعض کلام وبال ہیں ۴؎ (ابوداؤد) |
۱؎ بریدہ اسلمی مشہور صحابی ہیں،انکے فرزند عبدالله ابن بریدہ تابعی ہیں ،مرو کے قاضی رہے ،ان کے بھائی سلیمان ابن بریدہ ان سے زیادہ عالم و متقی تھے،صخر ابن عبد اللہ بھی تابعی ہیں،ان کا لقب مروزی ہے،انہوں نے اپنے دادا حضرت بریدہ سے ملاقات کی ہے، حضرت بریدہ غزوہ بدر سے پہلے ایمان لائے مگر اس غزوہ میں شریک نہ ہوئے،بیعۃ الرضوان میں حاضر تھے،مدینہ کے رہنے والے تھے پھر بصرہ پھر خراسان میں رہے، یزید ابن معاویہ کے زمانہ میں مقام مرو میں وفات پائی، ۶۲ باسٹھ میں اور مرو میں ہی دفن ہوئے،آپ سے بہت لوگوں نے احادیث روایت کیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع