30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4800 -[18] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ الْبَلِيغَ مِنَ الرِّجَالِ الَّذِي يَتَخَلَّلُ بِلِسَانِهِ كَمَا يَتَخَلَّلُ الْبَاقِرَةُ بِلِسَانِهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث غَرِيب |
روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ الله تعالیٰ لوگوں میں اس بلیغ آدمی کو ناپسند کرتا ہے ۱؎ جو اپنی زبان کو پھیرتا ہے جیسے گائے اپنی زبان کو پھیرا دیتی ہے ۲؎(ترمذی،ابوداؤد)ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ بلیغ یا تو بلاغت سے ہے یا مبالغہ سے اگر بلاغت سے ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ جو کوئی صرف کلام کی خوبیوں میں کوشش کرے سچ جھوٹ کی پرواہ نہ کرے،اگر مبالغہ سے ہے تو مطلب ظاہر ہے کہ وہ شخص لوگوں کی تعریف یا ہجو میں مبالغہ کرے جھوٹی سچی بات کی پرواہ نہ کرے۔
۲؎ یتخلل بنا ہے خلل سے بمعنی درمیان یا بیچ اس سے ہے خلال وہ تنکا جو دانتوں کے بیچ میں جائے۔ یتخلل کے معنی ہوئے اپنی زبان کو منہ کے بیچ میں گھمائے یعنی بہت بولے بے احتیاطی سے بولے اس کے ذریعہ روزی کمائے بے احتیاطی سے کھائے جیسے گائے باہر زبان نکال کر گھماکر چارا پکڑتی منہ میں لے جاتی ہے اچھی بری چیز میں فرق نہیں کرتی۔(مرقات، اشعہ)بقر،بقرہ،باقر،باقرہ سب کے معنی ہیں بیل، گائے۔بقر کے معنی ہیں چیرنا،چونکہ گائے بیل کے ذریعہ زمین ہل چلا کر چیرتی جاتی ہے اس لیے اسے باقرہ کہتے ہیں یعنی زمین کو چیرنے والے۔بڑے عالم کو باقر العلوم کہتے ہیں گویا اس نے علم کو چیر کر اس پر قبضہ کرلیا ہے اس لیے ایک امام کا نام باقر ہے،اس میں وہ واعظین بھی داخل ہیں جو محض پیشہ ور واعظ ہیں صرف روزی کمانے کے لیے تقریریں کرتے ہیں سوا لوگوں کو خوش کرنے کے اور کوئی غرض نہیں رکھتے۔یہاں مرقات نے بروایت حکم حضرت ابوہریرہ سے مرفوعًا حدیث نقل فرمائی کہ الله تعالیٰ دنیا کے عالم،آخرت کے جاہل کو ناپسند فرماتا ہے وعظ تبلیغ دین کے لیے چاہیے۔
|
4801 -[19] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي بقومٍ تُقْرَضُ شفاهُهم بمقاريض النَّارِ فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ خُطَبَاءُ أُمَّتِكَ الَّذِينَ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جس رات ہم کو سیر کرائی گئی(معراج)ہم ایسی قوم پرگزرے جن کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جارہے تھے ۱؎ تو ہم نے کہا کہ جبریل یہ کون لوگ ہیں فرمایا یہ آپ کی امت کے واعظین ہیں۲؎ جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں ۳؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ یعنی لوہے کی قینچی آگ سے گرم کی ہوئی۔آگ بھی دوزخ کی تو ان کا تپنا گرم ہونا بھی نہایت ہی سخت ہوگا۔
۲؎ مرقات نے فرمایا کہ خطباء میں بے عمل عالم واعظ شاعر سب ہی داخل ہیں۔خیال رہے کہ بے عمل عالم سے بدعمل عالم زیادہ برا بھی ہے خطرناک بھی۔
۲؎ فی زمانہ واعظین عمل کا وعظ ہی نہیں کرتے شعر خوانی خوش الحانی قصے کہانی میں وقت پوراکرتے ہیں عام جلسے گویا حلال سینما ہیں کہ سننے والے بھی تماشائی ذہن عیاش ہوتے ہیں،ہم نے وہ زمانہ دیکھا ہے جب مسلمان علماء کے وعظ سن کر بعد میں یاد کرتے تھے کہ مولوی صاحب نے آج فلاں فلاں مسئلہ بیان کیا ہے۔
|
4802 -[20] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَعَلَّمَ صَرْفَ الْكَلَامِ لِيَسْبِيَ بِهِ قُلُوبَ الرِّجَالِ أَوِ النَّاسِ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عدلا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو بات کا ہیر پھیر سیکھے ۱؎ تاکہ اس سے مردوں یا لوگوں کے دل پھانس لے تو الله تعالیٰ قیامت کے دن اس کے نہ فرائض قبول فرمائے گا نہ نوافل ۲؎ (ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع