30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ کیونکہ بدخلق اکثر بدعمل ہوتے ہیں بدخلقی خود بھی بدعملی ہے اور بہت سے بدعملیوں کا ذریعہ۔جھوٹ، خیانت،وعدہ خلافی، بدمعاملگی سب ہی بد اخلاقی کی شاخیں ہیں۔
۴؎ ثرثارون بنا ہے ثرثرۃ سے بمعنی کثرت کلام یا ایک بات کو بار بار کہنا۔متشدقون بنا ہے شدق سے بمعنی منہ کا جبڑا۔ متشدق وہ ہے جو منہ بھر کر باتیں کرے یا جس کے جبڑے باتوں کے لیے کھلے رہیں اور متفیہقون بنا ہے فھق سے بمعنی وسعت و فراخی یعنی بہت ہی کلام کرنے والا جسے اردو میں کہتے ہیں بکّی،فارسی میں کہتے ہیں بسیارگو۔ایک شاعر کہتا ہے
گفتہ گفتہ من شدم بسیار گو از شمایک مونہ شد اسرار جو
|
4798 -[16] وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ نَحْوَهُ عَنْ جَابِرٍ وَفِي رِوَايَتِهِ قَالُوا: يَا رَسُول الله قد علمنَا الثرثارونَ والمتشدقون فَمَا المتفيقهون؟ قَالَ: «المتكبرون» |
اور ترمذی نے اس کی مثل حضرت جابر سے روایت کی اور ایک روایت میں ہے کہ لوگوں نے عرض کیا یارسول الله ہم ثرثارون اور متشدقون کو تو جانتے ہیں مگر متفیھقون کیا چیز ہے فرمایا تکبر والے ۱؎ |
۱؎ یعنی متفیھقون سے ہماری مراد وہ لوگ ہیں جو تکبرًا بہت بولیں اپنی مجلس میں کسی کو بولنے نہ دیں جو آئے ان کی سنے اپنی کچھ نہ کہہ سکے۔
|
4799 -[17] وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«لَا تُقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ قَوْمٌ يَأْكُلُونَ بِأَلْسِنَتِهِمْ كَمَا تَأْكُلُ الْبَقَرَةُ بألسنتها» رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ قیامت نہ قائم ہوگی حتی کہ ایسی قوم نکلے گی جو اپنی زبانوں سے اسے کھائیں گے ۱؎ جیسے گائیں اپنی زبانوں سے کھاتی ہیں ۲؎(احمد) |
۱؎ یعنی ان کا ذریعہ معاش یہ ہی ہوگا کہ کسی کی خوشامدانہ جھوٹی تعریف میں قصیدہ کہہ دیا اور انعام حاصل کرلیا،کسی کے دشمن کی برائی میں نظم کہہ ڈالی اور کچھ وصول کرلیا،لوگوں کو فصیح وبلیغ جھوٹے کلام سنائے چندہ کرلیا یعنی صرف زبان سے کمائی کریں گے جیساکہ جاہلیت کے شعراء کا دستور تھا وہ ہی پھر ہوجاوے گا۔ نعت خواں،نعت گو،علماء واعظین اس میں داخل نہیں بشرطیکہ باعمل ہوں حلال و حرام آمدنی میں فرق کریں اسی لیے آگے بیان ہورہا ہے۔
۲؎ گائے میدان میں کھاتے وقت ہری سوکھی گھاس نہیں دیکھتی جو سامنے آجائے اسے کھالیتی ہے حتی کہ کبھی دودھک بوٹی بھی کھا جاتی ہے جس سے بیمار بلکہ ہلاک ہوجاتی ہے یہ ہی اس شخص کا حال ہے جو حلا ل و حرام نہ دیکھے جو ملے کھائے۔
|
4800 -[18] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ الْبَلِيغَ مِنَ الرِّجَالِ الَّذِي يَتَخَلَّلُ بِلِسَانِهِ كَمَا يَتَخَلَّلُ الْبَاقِرَةُ بِلِسَانِهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث غَرِيب |
روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ الله تعالیٰ لوگوں میں اس بلیغ آدمی کو ناپسند کرتا ہے ۱؎ جو اپنی زبان کو پھیرتا ہے جیسے گائے اپنی زبان کو پھیرا دیتی ہے ۲؎(ترمذی،ابوداؤد)ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع