30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا"زمانہ جاہلیت میں فحش گوئی شراب و حسین عورتوں کی تعریف میں شعر گوئی کا عام رواج تھا اسے قرآن کریم نے برا کہا۔
۴؎ سبحان الله! کیا پیارا جواب ہے یعنی مجاہد مسلمان تلوار سے بھی جہادکرتا ہے اور اشعار سے بھی،تلوار کفار ناہنجار کے اجسام نابکار کو زخمی کرتی ہے اور تمہارے اشعار ان کے دلوں کو چھلنی کرتے ہیں تم ان اشعار میں ثواب پاتے ہو اب بھی جہاد کے موقعہ پر قصیدے مجاہدوں کو گرما دیتے ہیں۔
۵؎ یہ حدیث صحیح ہے مسلم،بخاری کی شرط پر ہے۔(مرقات)
|
4796 -[14] وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْحَيَاءُ وَالْعِيُّ شُعْبَتَانِ مِنَ الْإِيمَانِ وَالْبَذَاءُ وَالْبَيَانُ شُعْبَتَانِ مِنَ النِّفَاقِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابو امامہ سے وہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے راوی ہیں فرمایا کہ حیاء اور خاموشی ایمان کی دو شاخیں ہیں ۱؎ اور فحش گوئی زیادہ بولنا نفاق کی دو شاخیں ہیں ۲؎ (ترمذی) |
۱؎ عی کے معنی ہیں حیران اور کلام سے عاجزی یہاں مراد ہے کم گوئی یعنی زیادہ خاموشی اور کم گوئی مؤمن کی نشانی ہے کم گو آدمی اپنے باطن کی اصلاح زیادہ کرتا ہے۔
۲؎ یعنی ہر بات بے دھڑک منہ سے نکال دینا منافق کی پہچان ہے،زیادہ بولنے والا گناہ بھی زیادہ کرتا ہے یعنی اسی فی صدی گناہ زبان سے ہوتے ہیں۔
|
4797 -[15] وَعَن أبي ثَعلبةَ الخُشنيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبَكُمْ مِنِّي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ وَأَبْعَدَكُمْ مني مساويكم أَخْلَاقًا الثرثارون المتشدقون المتفيقهون» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان» |
روایت ہے ابو ثعلبہ خشنی سے ۱؎ کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے مجھے سب سے پیارا اور قیامت کے دن مجھ سے بہت قریب تم میں سے اچھے اخلاق والا ہے ۲؎ اور تم میں سے مجھ کو بہت ناپسند اور مجھ سے بہت دور برے اخلاق والے ہیں۳؎ جو زیادہ بولنے و الے منہ پھٹ فراخ گو متکبر ۴؎(بیہقی شعب الایمان) |
۱؎ آپ کا نام جرہم ابن ناشب ہے،قبیلہ خشن سے ہیں،اس قبیلہ کے مورث کا نام خشن ابن نمر تھا،جرہم اپنی کنیت میں زیادہ مشہور ہے یعنی ابو ثعلبہ،آپ بیعت الرضوان میں شریک تھے،حضور انور نے آپ کو خیبر کی غنیمت سے حصہ دیا،آپ کی تبلیغ پر آپ کی قوم ایمان لائی، ۷۵ھ میں وفات پائی،بعض نے فرمایا کہ امیر معاویہ کے زمانہ میں فوت ہوئے۔(اشعہ)
۲؎ کیونکہ خوش خلق آدمی اکثر نیک اعمال زیادہ کرتا ہے گناہ اس سے کم سرزد ہوتے ہیں۔اخلاق سے مراد اخلاق محمدی ہیں کفار پر سخت،مؤمنوں پر بہت ہی نرم ،دیانتداری،وعدہ پورا کرنا،معاملات کا درست ہونا سب ہی خوش خلقی میں داخل ہیں۔خیال رہے کہ خوش خلقی،خوشامد میں فرق ہے،یوں بدخلقی اور استغناء میں فرق ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع