30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ اس دعا میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے"وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانۡصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیۡنَ"۔یعنی اے مولٰی اگر کفار سے ہماری جنگ ہوجاوے تو ہم کو جہاد میں ثابت قدم رکھ کہ ہمارے پاؤں ان کے مقابلہ میں اکھڑ نہ جائیں۔
۵؎ الاولی مخفف ہے اولئك کا یا اولاء کا اسم اشارہ ہے۔اس سے اشارہ ہے کفار عرب کی طرف اور ان کے ظلم کی جانب خصوصًا ان کفار کی طرف جو اس وقت ساری قوتیں جمع کرکے مدینہ منورہ پر ٹوٹ پڑنا چاہتے تھے۔
۶؎ یہاں فتنہ سے مراد اسلام سے پھیر دینا،کفر،قتل و غارت میں مشغول کردینا یعنی ان کفار نے چاہا کہ ہم اسلام کے بعد پھر کفر،قتل،ڈکیتی وغیرہ کریں۔اس فرمان میں اس آیتِ کریمہ کی طرف اشارہ ہے"وَدُّوۡا لَوْ تَکْفُرُوۡنَ"۔غالب یہ ہے کہ اشعار خود حضور انور صلی الله علیہ وسلم کے ہیں جو بے ساختہ منہ مبارک سے نکل رہے ہیں بغیر قصدوارادے کے۔
|
4793 -[11] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن أنسٍ قَالَ: جَعَلَ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ وَيَنْقُلُونَ الترابَ وهم يَقُولُونَ:نَحن الذينَ بَايعُوا محمَّداً عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدَا يَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُجِيبُهُمْ:اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ والمهاجرة |
روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ مہاجرین و انصاری خندق کھودنے لگے اور مٹی ہٹانے لگے اور وہ یہ کہتے جاتے تھے کہ ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد مصطفی صلی الله علیہ وسلم سے جہاد پر بیعت کرلی جب تک کہ ہم باقی رہیں ہمیشہ کے لیے ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ وسلم انہیں جواب دیتے ہوئے فرماتے تھے الٰہی نہیں ہے عیش مگر آخرت کا ۲؎ تو تو انصارومہاجرین کو بخش دے ۳؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ سبحان الله! کیا نظارہ ہوگا کہ مؤمنین اپنے ایمان کے ساتھ خندق کھود رہے ہیں اور یہ گیت گاتے جارہے ہیں اور حضور صلی الله علیہ وسلم ان کے جواب میں یہ دعائیں ارشاد فرمارہے ہیں۔
۲؎ اس فرمان عالی میں حضرات صحابہ کو تسکین دینا ہے کہ یہاں کی مشقت پر نہ گھبراؤ اگلی زندگی میں دائمی عیش پاؤ گے۔
۳؎ یعنی ان تمام کو ابھی ابھی بخش دے ان کے سارے گناہوں کی اگلے ہوں یا پچھلے اسی گھڑی بخشش فرمادے۔(مرقات)یہ ہے کرم کریمانہ۔ظاہر یہ ہے کہ انصارومہاجرین سے مراد سارے انصارومہاجرین ہیں اس کام میں شریک ہوئے ہوں یا کسی اور کام میں مصروف ہوں۔
|
4794 -[12] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِأَنَّ يمتلىءَ جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا يَرِيهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يمتلئ شعرًا» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کسی شخص کا پیٹ پیپ سے بھرا ہو جو اسے گندہ کردے ۱؎ اس سے اچھا ہے کہ شعر سے بھرا ہو ۲؎(مسلم، بخاری) |
۱؎ بعض روایات میں بجائے قیحا کے بخشا ہے،یری ی کے فتحہ رے کے کسرہ دوسری ی کے سکون سے یہ بنا ہے دری سے،دری پیٹ کا وہ زخم جو پیٹ کو بگاڑے لاعلاج بنادے اس سے مراد ہے بگاڑ دے اسے خراب کردے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع