30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قرآن مجید کی بعض آیات شعر بن جاتی ہیں جیسے" اِنَّاۤ اَعْطَیۡنٰکَ الْکَوْثَرَ" یا جیسے"لَنۡ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا"یا یہ شعر عبدالله ابن رواحہ کا ہے آپ نے وہ پڑھا لہذا حضور انور کا شعر پڑھنا ثابت ہوا مگر لہجہ سے یا گاکر نہیں بقیہ اشعار یہ ہیں۔شعر
وما بنفس الی لا تقتلی تموت ھذہ حیاض الموت قد صبیت
وما تمیت فقد لقبت ان تفعل فعلھما ھدیت (مرقات)
|
4789 -[7] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن البَراءِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ: «اهْجُ الْمُشْرِكِينَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ مَعَكَ» وَكَانَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِحَسَّانَ: «أَجِبْ عَنِّي اللَّهمَّ أيِّدْه بروحِ الْقُدس» . مُتَّفق عَلَيْهِ |
روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے قریظہ کے دن جناب حسان ابن ثابت سے فرمایا ۱؎ کہ مشرکین کی ہجو کرو کہ جبریل تمہارے ساتھ ہیں اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم حسان سے فرماتے تھے کہ میری طرف سے جواب دو الٰہی روح القدس سے ان کی مدد فرما ۲؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ آپ حسان ابن ثابت ابن منذر ابن حرام انصاری مدنی ہیں،ان چاروں کی عمر ایک سو بیس سال ہوئی،حضرت حسان نے آٹھ سال کفر میں گزارے،ساٹھ سال اسلام میں خاص شاعر اسلام ہیں،خلافت حیدری میں وفات پائی۔
۲؎ یعنی غزوہ خندق کے بعد جب حضور انور نے بنی قریظہ یہود و مدینہ کا محاصرہ فرمایا تب تو حضرت حسان سے یہ کہا کہ کفار کی ہجو کرو جبریل تمہارے ساتھ معاون ہیں،ویسے عام موقعوں پر یہ فرمایا کرتے تھے کہ الٰہی میرے حسان کی جبریل سے مددکر۔معلوم ہوا کہ مقبولوں کی تعریف کرنا نیکی ہے اور مردودوں کی ہجوکرنا نیکی ہے۔
|
4790 -[8] وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اهْجُوا قُرَيْشًا فَإِنَّهُ أَشَدُّ عَلَيْهِمْ مِنْ رَشْقِ النَّبْلِ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ قریش کی ہجو کرو کہ یہ ان پر تیر کے مارنے سے زیادہ سخت ہے ۱؎(مسلم) |
۱؎ یہاں قریش سے مراد ان کے کفار حربی ہیں جو نہ ذمی تھے نہ مستامن جن پر جہاد جائز تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ ہجو زبانی جہاد ہے جس سے دشمن کے دل زخمی ہوتے ہیں انکی ہمت ٹوٹتی ہے،جس پر تلوار کا جہاد جائز ہے اس کی ہجوبھی جائز ہے لہذا ذمی اور مستامن اور جن کفار سے ہماری صلح ہوچکی ہو انکی ہجو نہ کی جاوے،رب تعالیٰ فرماتاہے:"جٰہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِیۡنَ وَاغْلُظْ عَلَیۡہِمْ"یہ ہجو شدت و غلظت میں داخل ہے،بعض شارحین نے فرمایا کہ مسلمان جوابًا ہجو کریں ابتداءً نہ کریں۔ (مرقات)
|
4791 -[9] وَعَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِحَسَّانَ:«إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ لَا يَزَالُ يُؤَيِّدُكَ مَا نَافَحْتَ عَنِ اللَّهِ وَرَسُوله». سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:«هَجَاهُمْ حَسَّانُ فَشَفَى وَاشْتَفَى». رَوَاهُ مُسْلِمٌ |
روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو حسان سے فرماتے سنا کہ روح القدس تمہاری تائید کرتے رہتے ہیں جب تک کہ تم الله رسول کی طرف سے دفاع کرتے ہو ۱؎ اور فرماتی ہیں کہ میں نے رسول صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ حسان نے ان کفار کی ہجو کی تو شفا دی اور شفا پائی۲؎(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع