30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ اس طرح کہ ایک گھوڑے اونٹ پر آگے حضور انور سوار تھے حضور کے پیچھے میں تھا،حضور کی پشت انور سے میرا سینہ مس کرتا تھا بطور شکریہ اس نعمت کا ذکر فرماتے ہیں تاکہ اپنا قرب بیان کریں اور یہ بات میں نے حضور سے بہت قریب سے سنی ہے مجھے اس میں تردد شک نہیں۔
۳؎ امیہ ابن الصلت قبیلہ بنی ثقیف کا ایک شاعر تھا جس نے اسلام کا شروع زمانہ اور حضور کی ابتدائی تبلیغ پائی مگر نہ ایمان لایا نہ حضور انورکی خدمت میں حاضر ہوا،اپنے دین تارک الدنیا اور توحیدی تھا،اس کے اشعار توحید والے حضور انور نے سنے فرمایا کہ یہ ایمان کے قریب تھا۔بعض روایات میں ہے کہ اس کے دل میں کفر تھا مگر زبان پر ایمان تھا۔(مرقات)
۴؎ ہیہ اصل میں ایہ تھا الف ھ سے بدل دیا گیا اس کے معنی ہیں لاؤ یا اور لاؤ،پہلا ھیہ بمعنی لاؤ ہے بعد کے ھیہ بمعنی اوربھی لاؤ سناؤ۔
۵؎ یہ اشعار حمد الٰہی ،دنیا کی بے وفائی،آخرت کے ثواب و عذاب کے تھے حضور انور نے پسند فرمائے اور بہت سے اشعار سنے۔ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ اچھے مضمون کے شعر اچھے ہیں جن احادیث میں اشعار کی برائی آئی ہے وہاں برے مضمون کے اشعا ر مراد ہیں۔دوسرے یہ کہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم شعر جانتے تھے اس کی بھلائی برائی سے واقف تھے،آیت کریمہ"وَمَا عَلَّمْنٰہُ الشِّعْرَ"میں یا تو شعر سے مراد ہے جھوٹا کلام یعنی ناول یا علمنا سے مراد ہے ملکہ شعر گوئی یا لہجہ سے شعر پڑھنا کہ حضور انور اس سے پاک تھے۔تیسرے یہ کہ دوسروں سے شعر پڑھوا کر سنناسنت سے ثابت ہے۔چوتھے یہ کفار وفساق شاعروں کے اچھے شعر سننا جائز ہیں جب کہ مضمون شعر اچھا ہو۔
۶؎ یہاں اشعہ میں ہے کہ امیہ ابن صلت اہلِ کتاب سے حضور صلی الله علیہ وسلم کے صفات سنتا رہتا تھا اور کہتا تھا کہ کاش مجھے ان کی زیارت خدمت نصیب ہو جب حضور انور قریش میں نمودار ہوئے تو جل گیا بولا اگر وہ بنی ثقیف سے ہوتے تو میں ایمان لے آتا اسی حسد میں حضور کی خدمت میں حاضر نہ ہوا،خط میں سب سے پہلے باسمك اللھم لکھنے والا یہ ہی شخص تھا اس سے سیکھ کر قریش یہ لکھنے لگے تھے۔
|
4788 -[6] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن جُنْدُبٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَعْضِ الْمَشَاهِدِ وَقَدْ دَمِيَتْ أُصْبُعُهُ فَقَالَ:هَلْ أَنْتِ إِلَّا أُصْبُعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ الله مَا لقِيت |
روایت ہے حضرت جندب سے ۱؎ کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کسی جہاد میں تھے اور آپ کی انگلی شریف خونا خون ہوگئی ۲؎ تو فرمایا کہ نہیں ہے تو مگر وہ انگلی جو خونیں ہوگئی اور الله کی راہ میں تو نے یہ مشقت پائی ۳؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ آپ جندب ابن عبدالله ابن ابوسفیان بجلی صحابی ہیں،زمانہ ابن زبیر میں وفات پائی۔
۲؎ غالبًا غزوہ احد تھا اس غزوہ میں آپ کسی نماز کے لیے تشریف لے گئے تب انگلی میں چوٹ لگ گئی لہذا یہ حدیث نماز کے جانے کی حدیث کے خلاف نہیں۔
۳؎ اے انگلی تو صبرکر صرف تیرا خون ہی نکلا ہے جو معمولی تکلیف ہے جو کچھ تجھے تکلیف پہنچی وہ الله کی راہ میں ہے۔ما لقیت کا ما موصولہ ہے یہ شعر یا تو حضور صلی الله علیہ وسلم کا اپنا ہے جو بلا قصد شعر گوئی آپ کے منہ سے صادر ہوگیا جیسے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع